عالمی سیاست اس وقت ایک انتہائی اہم موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں بیجنگ سے لے کر واشنگٹن تک بڑی سفارتی اور سیاسی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایک طرف چین اور روس نے امریکہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا ہے، تو دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کو جلد ختم کرنے کا دعویٰ کر دیا ہے۔ اس دوران روس نے پاک-امریکہ-ایران تکون میں اسلام آباد کے سفارتی کردار کی کھل کر تعریف کی ہے۔
بیجنگ میں شی پنگ اور پیوٹن کی ملاقات: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کا مطالبہ
چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان بیجنگ میں ایک انتہائی اہم ملاقات ہوئی ہے، جس میں دفاع، توانائی اور اسلحہ کے بڑے معاہدوں سمیت عالمی امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ ملاقات کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے مشرقِ وسطیٰ اور ایران کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "خطے میں فوری اور جامع جنگ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے"۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنا دنیا کے لیے مزید خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے سفارتی حل اور مذاکرات کو ہی ترجیح دی جانی چاہیے۔ معاشی ماہرین کے مطابق یوکرین اور ایران تنازعات نے ماسکو اور بیجنگ کو ایک دوسرے کے مزید قریب لا کھڑا کیا ہے۔
ایران کے خلاف جنگ جلد ختم ہو جائے گی: امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ
دوسری جانب واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں قانون سازوں سے خطاب کرتے ہوئے ایک بڑا دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال بہت جلد ختم ہو جائے گی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران اب موجودہ معاشی اور جنگی صورتحال سے تھک چکا ہے اور معاہدہ کرنے کا خواہشمند ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی کانگریس میں ریپبلکن اکثریت نے ایک قرارداد کی منظوری دی ہے جس کے تحت صدر کو ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی طویل فوجی کارروائی کے لیے کانگریس سے باقاعدہ منظوری لینا ہوگی۔
ایران امریکہ تنازع: روس کی جانب سے پاکستان کے ثالثی کردار کی حمایت
ان تمام عالمی تبدیلیوں کے درمیان اسلام آباد میں متعین روسی سفیر البرٹ خورئیوف نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور ثالثی کے کردار کی کھل کر حمایت کی ہے۔ روسی سفیر کا کہنا تھا کہ ماسکو ایسے تمام اقدامات کا خیرمقدم کرے گا جو واشنگٹن اور تہران دونوں کے تحفظات کو دور کر سکیں۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے پاکستانی میڈیا میں آنے والی روس میں مبینہ بھرتیوں کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان رپورٹس میں تضاد ہے اور پاکستان کے متعلقہ ادارے اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ یوکرین جنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ روس ہر قسم کی صورتحال کے لیے تیار ہے اور جنگ میں اپنے طے شدہ اہداف حاصل کر کے رہے گا۔
مجموعی طور پر یہ تمام واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین کے بحران عالمی طاقتوں کے بلاکس کو ازسرِنو ترتیب دے رہے ہیں، جہاں پاکستان کا سفارتی کردار بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

Comments
Post a Comment