پیرس میں ہنگامہ آرائی؛ پی ایس جی کی فتح کا جشن میدانِ جنگ بن گیا، درجنوں فٹ بال فینز گرفتار

French riot police firing tear gas to disperse football fans on Paris street during night riots

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں مشہور فٹ بال کلب پیرس سینٹ جرمین (PSG) کی تاریخی فتح کا جشن اس وقت ہنگامہ آرائی اور پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہو گیا جب مشتعل فینز اور پولیس آمنے سامنے آ گئے۔ پیرس پولیس کے مطابق، چیمپئنز لیگ کے میچ میں فتح کے بعد شانزے لیزے اور اسٹیڈیم کے قریبی علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر پتھراؤ اور آتش بازی کے بعد درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

جشن کی رات پرتشدد جھڑپوں میں کیسے بدلی؟

ذرائع کے مطابق، پیرس سینٹ جرمین کی شاندار کارکردگی اور اہم کامیابی پر ہزاروں فٹ بال فینز پیرس کی سڑکوں پر جشن منانے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ ابتدائی طور پر جشن پرامن تھا، لیکن رات گئے کچھ مشتعل گروپس اور الٹراز (سرگرم فینز) نے سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا اور دکانوں کے شیشے توڑ دیے۔ جب پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی تو فینز نے پولیس اہلکاروں پر جلتے ہوئے کریکرز، بوتلیں اور پتھر پھینکے۔

پولیس نے بے قابو ہجوم کو منتشر کرنے اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور لاٹھی چارج کیا۔ اس کارروائی کے دوران پورٹ ڈی سینٹ کلاؤڈ اور دیگر حساس مقامات سے پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچانے، پولیس پر حملہ کرنے اور غیر قانونی اسلحہ و آتش بازی رکھنے کے جرم میں کئی درجنوں فینز کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

نقصانات اور سیکیورٹی ہائی الرٹ

پیرس پولیس ہیڈ کوارٹر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ان جھڑپوں میں متعدد پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں جبکہ سڑکوں پر کھڑی کئی گاڑیوں اور پبلک بائیکس کو آگ لگا دی گئی۔ حکومت نے واقعے کے بعد پیرس کے اہم تجارتی اور سیاحتی مراکز پر سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔

  • گرفتاریوں کی تعداد: سیکیورٹی فورسز نے ہنگامہ آرائی میں ملوث 50 سے زائد شرپسندوں کو موقع سے گرفتار کر کے پولیس اسٹیشنز منتقل کر دیا ہے۔
  • حکومتی سخت ایکشن: فرانسیسی وزیر داخلہ نے پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ کھیل کے نام پر غنڈہ گردی برداشت نہیں کی جائے گی۔
  • کلب کا ردعمل: پی ایس جی کلب انتظامیہ نے بھی فینز کے اس رویے کی مذمت کی ہے اور زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

فٹ بال فینز کی اس ہنگامہ آرائی نے پیرس میں ایک بار پھر پبلک آرڈر اور اسٹیڈیم سیکیورٹی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، اور آنے والے میچز کے لیے سیکیورٹی پلان مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Dozens Arrested in Paris After PSG Victory Celebrations Turn Violent


Clashes erupted in the French capital as Paris Saint-Germain (PSG) football fans clashed with law enforcement during victory celebrations. According to Paris police, dozens of individuals were detained overnight following acts of vandalism, public disturbance, and targeted assaults against security personnel around the Champs-Élysées and the Parc des Princes stadium.

From Historic Celebration to Street Clashes

Following a crucial victory for the Parisian club, thousands of supporters gathered to mark the milestone. However, the jubilant atmosphere quickly deteriorated into chaos when splinter groups began lighting unauthorized flares, damaging parked vehicles, and smashing storefront windows. Riot police moved swiftly to cordone off high-risk sectors, utilizing tear gas and tactical formations to disperse the crowd after being targeted with heavy fireworks and projectiles.

Injuries, Direct Detentions, and Security Measures

The municipal police department confirmed multiple minor injuries among the responding units, alongside significant property damage to public amenities. Interior ministry officials have condemned the vandalism, emphasizing that strict legal penalties will be pursued against those turning a sporting milestone into street violence. Security cordons remain active across major Paris avenues to prevent further disturbances.

PSG management issued a formal statement urging supporters to remain peaceful, reaffirming their stance against hooliganism and civil unrest.

Comments