معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر دوبارہ حملے شروع کر دیں گے؛ امریکی وزیر دفاع کی کھلی دھمکی

US Defense Secretary Pete Hegseth speaking at Shangri La Dialogue about Iran military operations

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے دوران سیکیورٹی کے ایک بڑے عالمی فورم پر واشنگٹن کی جانب سے انتہائی سخت اور جارحانہ بیان سامنے آیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے صاف الفاظ میں دھمکی دی ہے کہ اگر تہران کے ساتھ کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا تو امریکہ، ایران پر دوبارہ فوجی حملے شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ سنگاپور میں منعقدہ ایشیا کے سب سے بڑے دفاعی فورم 'شانگری لا ڈائیلاگ' سے خطاب کرتے ہوئے پنٹاگون کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہماری عسکری صلاحیت اور اسلحے کے ذخائر دنیا میں سب سے زیادہ ہیں، اس لیے ضرورت پڑنے پر ہم کسی بھی وقت دوبارہ حملے شروع کر سکتے ہیں۔

ٹرمپ کی صبر آموز پالیسی اور 60 روزہ جنگ بندی کی تجویز

امریکی وزیر دفاع نے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسا 'عظیم معاہدہ' چاہتے ہیں جو اس بات کی سو فیصد ضمانت دے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ صدر ٹرمپ اس معاملے میں کافی صابر ہیں لیکن وہ اپنے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز ہی وہائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں صدر ٹرمپ نے قومی سلامتی کے مشیروں کے ساتھ دو گھنٹے طویل اہم اجلاس کیا، جس میں اپریل سے جاری عارضی جنگ بندی کو مزید 60 روز کے لیے بڑھانے کی تجویز پر غور کیا گیا تاکہ مذاکرات کاروں کو کسی مستقل حل تک پہنچنے کا وقت مل سکے۔

دوسری جانب، تہران کی طرف سے اس امریکی دباؤ پر سخت ردِعمل دیکھنے کو ملا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے سرکاری میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاہدہ ابھی تک حتمی نہیں ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا پورا فوکس اس وقت جنگ کے مستقل خاتمے پر ہے اور وہ اس مرحلے پر کسی بھی نیوکلیئر پلان کی تفصیلات پر بحث نہیں کر رہے۔

عالمی معیشت پر اثرات اور تزویراتی صورتحال

اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے فروری میں شروع کی جانے والی اس عسکری مہم کے نتیجے میں ایران اور لبنان میں اب تک ہزاروں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ایران کی جانب سے تیل کی سپلائی کے اہم ترین راستے 'آبنائے ہرمز' کی ناکہ بندی کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس نے پوری دنیا کو شدید معاشی بحران میں مبتلا کر رکھا ہے۔ پینٹاگون کے چیف کا کہنا ہے کہ امریکہ بیک وقت دو بڑے محاذوں کو سنبھالنے کی بھرپور سکت رکھتا ہے اور وہ اپنے دفاعی صنعتی نظام کو اس طرح اپ گریڈ کر رہے ہیں کہ بہت جلد ان کے پاس اسلحہ بنانے کی رفتار تین سے چار گنا بڑھ جائے گی۔

امریکی وزیر دفاع کے اس سخت گیر عسکری مؤقف کے بعد خطے میں امن کی سفارتی کوششیں ایک بار پھر شدید خطرات سے دوچار ہو گئی ہیں اور دنیا کی نظریں اب وہائٹ ہاؤس کے اگلے حتمی فیصلے پر ٹکی ہوئی ہیں۔


⬇️ Click to Read this Article in English

US Ready to Restart Strikes on Iran if No Deal Reached, Pentagon Chief Warns


US Defense Secretary Pete Hegseth issued a stern warning at the Shangri-La Dialogue in Singapore, declaring that the United States is "more than capable" of resuming military attacks against Iran if ongoing diplomatic negotiations fail to yield a comprehensive agreement. Hegseth emphasized that Washington's global military stockpiles are well-suited to restart operational directives immediately if the diplomatic channels collapse entirely.

The 60-Day Ceasefire Extension and Nuclear Conditions

The Pentagon chief noted that President Donald Trump remains patient but is determined to secure a "great deal" that completely neutralizes Iran's nuclear weapon ambitions. This development follows a crucial two-hour Situation Room meeting at the White House, where administration officials weighed a proposed 60-day extension to the fragile April truce to allow negotiators additional operational space to forge a permanent resolution.

Regional Countermeasures and Economic Strain

Responding to the public framework, Iran’s Foreign Ministry spokesman Esmail Baghaei pushed back, stating that the agreement regarding the ceasefire extension and the reopening of the strategic Strait of Hormuz has not yet been finalized. He iterated that Tehran remains exclusively focused on a absolute cessation of hostilities rather than discussing the complexities of the nuclear plan. The prolonged conflict has triggered widespread global economic strain, driving up energy prices significantly due to trade interruptions across crucial maritime shipping corridors.

Despite heavy engagement in the Middle Eastern conflict, the United States maintained that it has not shifted focus away from the Asia-Pacific region, confirming a rapid acceleration of its defense industrial complex to heavily scale up munitions manufacturing plants.

Comments