نئی دہلی میں منعقدہ برکس پلس (BRICS+) وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے سائے گہرے نظر آئے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اس اتحاد سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی کھل کر مذمت کریں۔
ایران اور متحدہ عرب امارات میں شدید تلخی
28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکہ-اسرائیل جنگ کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب ایرانی اور اماراتی حکام ایک ہی کمرے میں موجود تھے۔ اجلاس کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے پڑوسی ملک متحدہ عرب امارات (UAE) پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہے۔ انہوں نے برکس ممالک پر زور دیا کہ وہ مغربی بالادستی اور امریکی ہٹ دھرمی کے خلاف مزاحمت کریں۔ یاد رہے کہ تہران نے اس سے قبل یو اے ای سمیت خلیجی ممالک پر جوابی حملے بھی کیے تھے، جس کے باعث اتفاقِ رائے سے چلنے والی برکس تنظیم کے لیے مشترکہ اعلامیہ جاری کرنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
تزویراتی گزرگاہ 'آبنائے ہرمز' کی ناکہ بندی اور بھارت کی تشویش
سال 2026 کے لیے برکس کی صدارت کرنے والا ملک بھارت اس تنازع سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ ایران کی جانب سے عالمی تیل کی سپلائی کے لیے اہم ترین گزرگاہ "آبنائے ہرمز" کی ناکہ بندی نے حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا اسٹریٹجک بحران پیدا کر دیا ہے۔ دنیا کے تیسرے بڑے تیل درآمد کنندہ ملک بھارت کو سپلائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ خلیج میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں میں بھارتی ملاح بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ سبراہمینیم جے شنکر نے یکطرفہ پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں سے محفوظ تجارت عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہے اور دباؤ کی بجائے سفارت کاری کو موقع دیا جانا چاہیے۔
سمندری حدود میں کشیدگی اور جہازوں کی ضبطگی
دوسری جانب خلیجِ عمان میں کشیدگی برقرار ہے۔ برطانوی بحری سیکیورٹی ایجنسی (UKMTO) کے مطابق اماراتی بندرگاہ فجیرہ کے قریب لنگر انداز ایک جہاز پر ایرانی اہلکاروں نے کنٹرول حاصل کر کے اسے ایرانی حدود کی طرف موڑ دیا ہے۔ ایران نے حال ہی میں ایک نیا نقشہ جاری کیا ہے جس میں فجیرہ کے ساحلی علاقے کو بھی اپنی سیکیورٹی حدود میں شامل دکھایا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ وہ ایرانی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے امریکی ٹینکرز کو بین الاقوامی ضابطوں کے تحت پکڑ رہا ہے۔ ادھر واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ ایران کی جارحانہ صلاحیتیں کمزور ہو چکی ہیں، تاہم آزاد ذرائع کے مطابق تہران کے پاس اب بھی ڈرونز اور میزائلوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے جس کی بدولت وہ مذاکرات کی میز پر پابندیوں کے خاتمے اور جنگی نقصانات کے ازالے کے لیے مضبوط پوزیشن پر قائم ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ محاذ آرائی اب صرف ایک علاقائی جنگ نہیں رہی بلکہ اس نے برکس جیسے عالمی اقتصادی فورمز اور بین الاقوامی سپلائی چین کو بھی بری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

Comments
Post a Comment