ٹرمپ انتظامیہ میں امریکی سفارت کاری کا بحران؛ دنیا بھر میں نصف سے زائد سفارتی عہدے خالی

trump-us-diplomacy-crisis

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ اقتدار میں واشنگٹن کی روایتی سفارت کاری کے اندرونی ڈھانچے میں ایک تاریخی بگاڑ اور غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ حالیہ انکشافات کے مطابق، جب صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی کہ "آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی"، تو یورپی سفارت کاروں نے امریکی محکمہ خارجہ (State Department) سے رابطہ کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا امریکہ ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے جا رہا ہے؟ لیکن خود امریکی حکام اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔

محکمہ خارجہ کی تنزلی اور خالی سفارت خانے

اس وقت دنیا بھر میں امریکہ کے 195 سفارتی عہدوں میں سے نصف سے زیادہ (تقریباً 109) خالی پڑے ہیں۔ ایران کے ساتھ جاری جنگی صورتحال کے باوجود، ایران کی سرحد سے لگنے والے 7 میں سے 5 ممالک اور خلیج کی 6 ریاستوں میں سے 4 میں کوئی مستقل امریکی سفیر موجود ہی نہیں ہے۔ خارجہ امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سفارتی خلا کی وجہ سے جنگ کے آغاز پر امریکی شہریوں کو خطے سے نکالنے کے آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے 'پروجیکٹ 2025' کے تحت امریکی محکمہ خارجہ میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ شروع کر رکھی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 3,000 تجربہ کار سفارت کاروں اور ملازمین کو فارغ کیا جا چکا ہے یا انہوں نے خود استعفیٰ دے دیا ہے، جو کہ مجموعی اسٹاف کا 15 فیصد بنتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ اس عمل سے نظام زیادہ فعال اور مینوفیکچرنگ لاگت میں کمی آئی ہے۔

عالمی اتحادیوں کے متبادل اور خفیہ راستے

امریکی سفارت خانوں کے غیر فعال ہونے کے بعد، دنیا بھر کی حکومتوں نے واشنگٹن کے ساتھ رابطے کے روایتی طریقے بدل دیے ہیں۔ اب اتحادی ممالک آفیشل چینلز کے بجائے صدر ٹرمپ کے قریبی حلقے سے براہِ راست رابطے ڈھونڈ رہے ہیں۔ ان میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور ان کے بزنس پارٹنر اسٹیو وٹکوف سرفہرست ہیں، جن کے پاس کوئی سرکاری سفارتی عہدہ یا تجربہ نہیں ہے، لیکن غیر ملکی حکومتیں ان کے ذریعے پیغامات پہنچا رہی ہیں۔

اسی طرح، جنوبی کوریا نے امریکی تجارتی پابندیوں سے بچنے کے لیے وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز سے براہِ راست تعلقات استوار کیے ہیں، جبکہ جاپان نے ٹرمپ کے گالف پارٹنر اور سافٹ بینک کے بانی مسایوشی سن کو اپنا متبادل سفارت کار بنا لیا ہے۔

سفارتی زبان کو 'شور' سمجھنے کی حکمتِ عملی

برطانیہ، فرانس اور جرمنی جیسے بڑے یورپی ممالک نے اب ٹرمپ کی جارحانہ بیان بازی پر ردِعمل دینے کے بجائے خاموشی اختیار کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی کے بعد یورپی ممالک ایک سخت مشترکہ مذمتی بیان جاری کرنے والے تھے، لیکن انہوں نے آخری وقت پر یہ سوچ کر بیان روک دیا کہ ٹرمپ کی باتیں صرف گیدڑ بھبکی (Bluster) ہیں اور پبلک میں مخالفت کرنے سے وہ مزید بمباری شروع کر سکتے ہیں۔ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی دھمکیوں کو مستقل نظرانداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ کسی بڑے عالمی بحران کے وقت دنیا اس کے لیے تیار نہیں ہوگی۔

مختصر یہ کہ امریکہ کا روایتی سفارتی ڈھانچہ مفلوج ہونے سے عالمی استحکام اور بین الاقوامی معاہدوں کے مستقبل پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Inside the Unravelling of US Diplomacy Under Trump


A historic breakdown is unfolding within American diplomacy under President Donald Trump’s second term. When Trump issued an apocalyptic warning to Iran, declaring "a whole civilization will die tonight," European diplomats scrambled for clarity from the US State Department on whether a nuclear strike was looming. Alarmingly, US foreign service officials admitted they had no insight into the president's true meaning.

Mass Vacancies and the State Department Overhaul

Currently, 109 out of 195 US ambassadorial posts worldwide sit vacant. Even amid an active conflict with Iran, five out of seven nations bordering Iran and four out of six Gulf States lack a Senate-confirmed US ambassador. Guided by the conservative blueprint Project 2025, Secretary of State Marco Rubio has initiated a sweeping reorganization, resulting in the exit of roughly 3,000 career diplomats and staff—a 15% reduction in domestic personnel.

Allies Rewire Diplomacy Around Back Channels

With official channels sidelined, foreign governments are bypassing traditional embassies. Foreign capitals are routing critical communications through an inner circle with personal access to Trump, notably his son-in-law Jared Kushner and real estate developer Steve Witkoff. Similarly, South Korea has bypassed trade negotiators to connect directly with Chief of Staff Susie Wiles, while Japan has utilized SoftBank founder Masayoshi Son, a regular golfing partner of Trump, as an intermediary.

Rhetoric Treated as Background Noise

Allies like Britain, France, and Germany are increasingly practicing restraint over confrontation, treating Trump's volatile pronouncements as bluster. Following the nuclear scare, European powers drafted a harsh joint rebuke but withheld it to avoid provoking further escalation. While this strategic silence manages immediate crises, veteran diplomats warn that repeatedly discounting Washington's signals raises the risk of severe global instability when a genuine geopolitical crisis hits.

Comments