اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) میں شہریوں کے تحفظ پر ہونے والے سالانہ مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا سخت اور منہ توڑ جواب دیا ہے۔ پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے "حقِ جواب" (Right of Reply) کا استعمال کرتے ہوئے بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا اور کہا کہ بھارت سلامتی کونسل میں مظلوم کا مکھوٹا پہن کر آتا ہے، لیکن دنیا اس مکھوٹے کے پیچھے چھپا دہشت گردی کا اصل چہرہ دیکھ چکی ہے۔
افغانستان سے پاکستان پر حملے اور بھارتی سرپرستی
پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ بھارت پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی (TTP) اور بی ایل اے (BLA) جیسے دہشت گرد گروہوں کی مالی معاونت اور سرپرستی کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے معتبر انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر افغان سرزمیں پر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف انتہائی پیشہ ورانہ اور درست کارروائی کی۔ یہ آپریشنز صرف دہشت گردوں کے خلاف تھے نہ کہ افغان عوام کے خلاف۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کی مایوسی کو سمجھ سکتے ہیں کیونکہ پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے اس کی جانب سے افغان سرزمین پر کی گئی تمام سرمایہ کاری اب ضائع ہو رہی ہے۔
Right of Reply by Counsellor, Ms. Saima Saleem
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) May 21, 2026
In Response to Remarks by India during the Security Council Annual Debate on the Protection of Civilians
(20 May 2026)
****
Mr. President,
Today, India once again came to this Council wearing the mask of a victim — but the world… pic.twitter.com/KAICgoYeUl
مقبوضہ کشمیر اور ہندوتوا انتہا پسندی
صائمہ سلیم نے جموں و کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود اس عالمی تنازع اور وہاں جاری اپنے غاصبانہ قبضے کو نہیں چھپا سکتا، جہاں معصوم شہریوں کو قتل اور ان کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بھارت میں مودی سرکار کے تحت ہندوتوا انتہا پسندی اور مسلمانوں کی نسل کشی (Genocide) کی کوششوں پر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں اسلامو فوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا گیا ہے اور مسلمانوں، سکھوں، دلتوں اور عیسائیوں پر ظلم عام بات ہو چکی ہے۔
سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی
پاکستان نے سلامتی کونسل کو یاد دلایا کہ بھارت بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کو معطل کر رہا ہے اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر کے لاکھوں پاکستانیوں کی غذائی اور معاشی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ ایسا ملک شہریوں کے تحفظ پر لیکچر دینے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ امن، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے حق میں کھڑا ہے۔
پاکستانی مندوب کے اس جرات مندانہ جواب نے اقوامِ متحدہ کے فورم پر بھارتی بیانیے کو ایک بار پھر مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔

Comments
Post a Comment