اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا بھارت کو کرارا جواب


اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) میں شہریوں کے تحفظ پر ہونے والے سالانہ مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا سخت اور منہ توڑ جواب دیا ہے۔ پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے "حقِ جواب" (Right of Reply) کا استعمال کرتے ہوئے بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا اور کہا کہ بھارت سلامتی کونسل میں مظلوم کا مکھوٹا پہن کر آتا ہے، لیکن دنیا اس مکھوٹے کے پیچھے چھپا دہشت گردی کا اصل چہرہ دیکھ چکی ہے۔

افغانستان سے پاکستان پر حملے اور بھارتی سرپرستی

پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ بھارت پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی (TTP) اور بی ایل اے (BLA) جیسے دہشت گرد گروہوں کی مالی معاونت اور سرپرستی کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے معتبر انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر افغان سرزمیں پر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف انتہائی پیشہ ورانہ اور درست کارروائی کی۔ یہ آپریشنز صرف دہشت گردوں کے خلاف تھے نہ کہ افغان عوام کے خلاف۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کی مایوسی کو سمجھ سکتے ہیں کیونکہ پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے اس کی جانب سے افغان سرزمین پر کی گئی تمام سرمایہ کاری اب ضائع ہو رہی ہے۔

مقبوضہ کشمیر اور ہندوتوا انتہا پسندی

صائمہ سلیم نے جموں و کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود اس عالمی تنازع اور وہاں جاری اپنے غاصبانہ قبضے کو نہیں چھپا سکتا، جہاں معصوم شہریوں کو قتل اور ان کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بھارت میں مودی سرکار کے تحت ہندوتوا انتہا پسندی اور مسلمانوں کی نسل کشی (Genocide) کی کوششوں پر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں اسلامو فوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا گیا ہے اور مسلمانوں، سکھوں، دلتوں اور عیسائیوں پر ظلم عام بات ہو چکی ہے۔

سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی

پاکستان نے سلامتی کونسل کو یاد دلایا کہ بھارت بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کو معطل کر رہا ہے اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر کے لاکھوں پاکستانیوں کی غذائی اور معاشی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ ایسا ملک شہریوں کے تحفظ پر لیکچر دینے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ امن، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے حق میں کھڑا ہے۔

پاکستانی مندوب کے اس جرات مندانہ جواب نے اقوامِ متحدہ کے فورم پر بھارتی بیانیے کو ایک بار پھر مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

At UN, Pakistan Exposes India’s State-Sponsored Terrorism and Regional Aggression


Exercising the "Right of Reply" at the UN Security Council's Annual Debate on the Protection of Civilians, Pakistani Counsellor Ms. Saima Saleem delivered a stinging response to India's remarks. She stated that India once again entered the Council wearing the mask of a victim, but the international community can clearly see its true face as a state that exports terrorism, occupies land by force, and represses minorities.

Counter-Terrorism Operations and Indian Proxies

Pakistan highlighted India's state-sponsorship of terrorist proxies, including the TTP and BLA, operated from Afghan soil to target Pakistani markets, schools, and mosques. Defending Pakistan's recent precise counter-terrorism operations inside Afghanistan, the diplomat clarified that these strikes targeted terrorist infrastructure, not Afghan civilians. She noted that India's frustration is evident as its heavy investments in using Afghan soil against Pakistan are going to waste.

Human Rights Violations in Kashmir and Rise of Hindutva

The statement strongly condemned India’s ongoing illegal occupation of Jammu and Kashmir, where civilians continue to be killed, detained, and dispossessed. Furthermore, Pakistan raised serious alarms over the condition of minorities in India under the state-sponsored Hindutva ideology, pointing out normalized Islamophobia, mob violence, and the systematic discrimination against Muslims, Sikhs, Christians, and Dalits.

Weaponizing Water Agreements

Pakistan also criticized India’s disregard for international law regarding the Indus Waters Treaty. By threatening the water and food security of millions of Pakistanis, India has disqualified itself from lecturing the world on civilian protection. Saima Saleem concluded by reiterating Pakistan's commitment to peace, dialogue, and the UN Charter based on sovereign equality.

The address effectively turned the tables on New Delhi's propaganda at the prestigious international forum.

Comments