اسرائیلی حکام کے خلاف نئے وارنٹ کا اجرا؟ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ مسترد

عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے اسرائیلی میڈیا میں گردش کرنے والی ان رپورٹس کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عدالت نے پانچ اسرائیلی سیاسی اور فوجی حکام کے خلاف گرفتاری کے نئے وارنٹ جاری کیے ہیں۔ عدالت نے ان خبروں کو سراسر غلط اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔

عالمی عدالت کا باقاعدہ موقف

آئی سی سی کی ترجمان اوریان میلیٹ نے صحافیوں کو جاری کیے گئے ایک وضاحتی نوٹ میں کہا ہے کہ اسرائیلی اخبار 'ہآریٹز' کی رپورٹ حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ عدالت نے فلسطین کی صورتحال کے تناظر میں کسی قسم کے نئے وارنٹ جاری نہیں کیے۔ واضح رہے کہ اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ عدالت نے خفیہ طور پر تین سیاستدانوں اور دو فوجی حکام کے وارنٹ جاری کیے ہیں، جسے اب عدالت نے باقاعدہ طور پر غلط قرار دے دیا ہے۔ یاد رہے کہ عالمی عدالت اس سے قبل نومبر 2024 میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم پر وارنٹ جاری کر چکی ہے۔

جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری

دوسری جانب، غزہ میں جاری نام نہاد جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج کی جارحیت تھم نہ سکی۔ اتوار کے روز جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں اسرائیلی ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہید اور چار زخمی ہو گئے۔ طبی ذرائع کے مطابق ناصر ہسپتال میں لائے گئے تمام افراد ایک جگہ جمع تھے جنہیں نشانہ بنایا گیا۔ مزید برآں، خان یونس کے مشرقی قصبے بنی سہیلا میں اسرائیلی فوجی گاڑیوں اور بلڈوزروں نے پیش قدمی کرتے ہوئے متعدد رہائشی مکانات کو مسمار کر دیا، جس کے باعث کئی خاندانوں کو دوبارہ نقل مکانی کرنا پڑی۔

'یلو لائن' کی خلاف ورزی اور فوجی کنٹرول میں اضافہ

عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فورسز نے کارروائی کے دوران 'یلو لائن' (زرد لکیر) کے کنکریٹ بلاکس کو مزید مغرب کی طرف دھکیل دیا ہے، جس کا مقصد اسرائیلی فوجی کنٹرول کے علاقے کو وسعت دینا ہے۔ 'یلو لائن' سے مراد وہ حد ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی پلان کے دوسرے مرحلے کے تحت اسرائیلی افواج کو پیچھے ہٹنا تھا، یہ لائن اسرائیلی فوجی علاقے اور فلسطینیوں کے زون کو الگ کرتی ہے۔ اکتوبر 2023 سے جاری اس دو سالہ جنگ میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اکتوبر 2025 میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی حملوں میں 870 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

عالمی عدالت کے وارنٹ کی تردید اور زمین پر جاری کشیدگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ غزہ کی صورتحال اب بھی شدید غیر یقینی کا شکار ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

ICC Denies Issuing New Warrants Against Israeli Officials, Calls Report Inaccurate


The International Criminal Court (ICC) on Sunday strongly denied a report in Israeli media claiming that it had issued new arrest warrants for five Israeli political and military officials for alleged crimes against Palestinians. The court formally rejected these claims as inaccurate.

Official Clarification from the ICC

ICC spokesperson Oriane Maillet stated in a note to journalists that the report published by Israel's Haaretz newspaper was incorrect, confirming that the court denies the issuance of new arrest warrants in the situation in the state of Palestine. Haaretz had previously claimed that secret warrants were issued against three politicians and two military personnel. This development follows the ICC's previous actions in November 2024, when it issued arrest warrants against Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu and former Defence Minister Yoav Gallant for war crimes and crimes against humanity in Gaza.

Israeli Aggression Continues Despite Ceasefire

On the ground, despite an ongoing ceasefire, Israeli military operations continue in the Gaza Strip. An Israeli airstrike targeted a gathering of Palestinians in central Khan Younis on Sunday, killing one individual and injuring four others. Furthermore, Israeli military vehicles and bulldozers advanced into Bani Suheila town, demolishing several homes and forcing several families to displace toward western areas.

Expansion of the 'Yellow Line'

According to local sources, Israeli forces moved the concrete blocks marking the "Yellow Line" dozens of meters westward, effectively expanding the areas under full Israeli military control. The "Yellow Line" represents the boundary established under a peace plan announced by US President Donald Trump to separate Israeli military zones from Palestinian areas. Since October 2023, the conflict has claimed more than 72,000 Palestinian lives, with over 870 killed even after the ceasefire took effect in October 2025.

The denial of new warrants by the ICC and the ongoing violations on the ground highlight the fragile state of the current truce in the region.

Comments