پاکستان کی معروف اداکارہ مریم نفیس نے حال ہی میں ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران جوائنٹ فیملی سسٹم، ساس کے رویے اور شادی کے بعد خواتین کی نجی زندگی میں مداخلت پر کھل کر بات کی ہے۔ مریم نفیس، جو مارچ 2022 میں بصری فنکار امان احمد کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی تھیں، اب ایک بیٹے 'عیسیٰ' کی ماں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شادی کے بعد وہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں موجود پیچیدگیوں اور نسل در نسل خواتین پر مسلط کی جانے والی توقعات سے زیادہ آگاہ ہوئی ہیں۔
علیحدہ گھر اور مذہبی تعلیمات
مریم نفیس کا کہنا تھا کہ "ہمارے دین میں بھی یہ بات موجود ہے کہ جب بچوں کی شادی ہو جائے تو انہیں علیحدہ جگہ دینی چاہیے، کیونکہ ہر خاندان کو اپنی نجی جگہ (Space) کی ضرورت ہوتی ہے۔" انہوں نے اپنے بیٹے عیسیٰ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی سے خود کو اس بات کے لیے تیار کر رہی ہیں کہ جب ان کا بیٹا بڑا ہوگا تو اس کی اپنی الگ زندگی ہوگی۔
بیوی کی ذمہ داریاں اور حدود
اداکارہ نے واضح کیا کہ شوہر کے گھر والوں کی دیکھ بھال کرنا بیوی کی شرعی یا قانونی ذمہ داری نہیں ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ان معاملات پر شادی سے پہلے ہی بات کر لینی چاہیے۔ اگر گھر اتنا بڑا نہیں ہے کہ جوڑا علیحدہ رہ سکے، تو کم از کم ان کا کمرہ اور کچن کا انتظام الگ ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنی مرضی سے زندگی گزار سکیں۔ مریم کے مطابق، ہر عورت کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے گھر کو اپنی پسند کے مطابق سجائے اور مینیج کرے۔
ساس کا رویہ اور زہریلے رجحانات
مریم نفیس نے ساس اور بہو کے رشتے میں پیدا ہونے والی تلخیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب بڑے یہ سوچنے لگتے ہیں کہ کوئی دوسری عورت ان کی جگہ نہیں لے سکتی یا وہ سب کچھ بہتر جانتے ہیں، تو وہیں سے رشتے خراب ہونا شروع ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکھنے کا عمل کسی بھی عمر میں ختم نہیں ہوتا اور بڑوں کو بھی نئی نسل سے سیکھنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
اسی پروگرام میں اداکارہ شرمین علی نے بھی اتفاق کیا کہ موجودہ نسل ماضی کے زہریلے رویوں کو ختم کر رہی ہے اور بچوں کی تربیت کے نئے طریقے اپنائے جا رہے ہیں۔

Comments
Post a Comment