خلیج میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران معاہدے کے قریب، پاکستان کی ثالثی رنگ لے آئی


 پاکستان کے معتبر سفارتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران خلیج میں جاری جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ایک یاداشتِ مفاہمت (Memorandum) پر دستخط کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان 14 نکاتی معاہدے پر بات چیت حتمی مراحل میں ہے، جس کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو ختم کرنا اور بحری تجارت کے لیے راستہ کھولنا ہے۔


اس اہم پیش رفت کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے شروع کیے گئے بحری مشن "پروجیکٹ فریڈم" کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر اس مشن کو روکا گیا ہے تاکہ ایران کے ساتھ حتمی معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ اس خبر کے منظرِ عام پر آتے ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 8 فیصد تک گر گئیں اور برینٹ کروڈ 100 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگیا۔

مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اپنی جوہری افزودگی روکنے کا پابند ہوگا، جبکہ امریکہ اس کے منجمد اثاثے بحال کرنے اور پابندیاں ختم کرنے پر غور کرے گا۔ پہلے مرحلے میں 30 دن کی جنگ بندی ہوگی جس کے دوران آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو مکمل طور پر بحال کیا جائے گا۔ پاکستان گزشتہ ماہ سے دونوں ممالک کے درمیان واحد ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور تجاویز کے تبادلے کے لیے ایک پل کا کام کر رہا ہے۔


وزیراعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کی قیادت کی تعریف کی اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی کوششوں کا بھی خصوصی ذکر کیا۔ دوسری جانب چین نے بھی ایران کی خود مختاری کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل نکالنے پر زور دیا ہے۔ اگرچہ ایرانی حکام فی الحال صرف آبنائے ہرمز پر مذاکرات کی تصدیق کر رہے ہیں، تاہم عالمی سطح پر یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ طویل عرصے سے جاری یہ بحران اب پرامن حل کی طرف بڑھ رہا ہے۔

Comments