پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار ایک اہم سرکاری دورے پر واشنگٹن ڈی سی پہنچ گئے ہیں۔ امریکہ آمد پر واشنگٹن میں متعین پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ اور سفارت خانے کے اعلیٰ حکام نے ان کا پُرتپاک استقبال کیا۔ اس دورے کو موجودہ علاقائی اور عالمی سیاسی منظر نامے میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، جہاں پاک امریکہ دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر غور کیا جائے گا [3، 4]۔
امریکی وزیرِ خارجہ اور قومی سلامتی مشیر سے ملاقاتیں
نائب وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، سینیٹر اسحاق ڈار اپنے دورے کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر مارکو روبیو سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی ایجنڈا پاک امریکہ اسٹریٹجک تعلقات کو فروغ دینا، باہمی دلچسپی کے امور، تجارت، سرمایہ کاری، اور معاشی تعاون کے نئے راستے تلاش کرنا ہے [3، 4]۔ دونوں رہنما خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور جیو پولیٹیکل چیلنجز پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے [3، 4]۔
اس سے قبل نیویارک میں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای سے بھی اہم ملاقات کی تھی جس میں علاقائی ترقی اور باہمی تعاون پر بات چیت کی گئی تھی۔ چین کے بعد اب امریکی قیادت سے یہ اعلیٰ سطح کے مذاکرات ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان عالمی سفارت کاری میں متوازن خارجہ پالیسی کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔
تزویراتی شراکت داری اور علاقائی امن
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار امریکی تھنک ٹینک 'اٹلانٹک کونسل' سے بھی خطاب کریں گے، جہاں وہ علاقائی و عالمی امور اور پاک امریکہ تعلقات کے مستقبل پر پاکستان کا باضابطہ نکتہ نظر پیش کریں گے۔ پاکستان اس وقت امریکہ کے ساتھ اپنے تجارتی روابط کو وسعت دینے اور ٹیکنالوجی و توانائی کے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کا خواہاں ہے۔ اپنے سرکاری مصروفیات کے اختتام کے فوری بعد نائب وزیرِ اعظم اسلام آباد کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔
نائب وزیرِ اعظم کا یہ مختصر مگر انتہائی مصروف دورہ واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان مستقبل کی تزویراتی اور اقتصادی شراکت داری کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

Comments
Post a Comment