لیگو (LEGO) مصنوعات کی مشہور ترین ری سیل فرنچائز 'برکس اینڈ مینی فگز' (Bricks & Minifigs) اس وقت دنیا بھر میں شدید تنقید اور ایک بڑے قانونی اسکینڈل کی زد میں ہے [3، 4]۔ اس تنازعے میں نیا موڑ اس وقت آیا جب کمپنی کے ڈائریکٹر آف آپریشنز کائی میک السٹر (Ki McAllister) کی ایک مبینہ آڈیو ریکارڈنگ انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئی، جس کے بعد وہ شدید عوامی اور قانونی اسکروٹنی کا سامنا کر رہے ہیں [4، 5]۔ اس اسکینڈل نے لیگو کے شوقین افراد اور کلیکٹرز کے درمیان اعتماد کی فضا کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
2 لاکھ ڈالرز کا لیگو کلیکشن اور مبینہ چوری
یہ پورا تنازعہ امریکی ریاست اوریگون کے شہر کیزر (Keizer) میں واقع ایک فرنچائز اسٹور سے شروع ہوا۔ برائن مینسیل (Bryan Mansell) نامی شہری نے اپنے والد کا جمع کردہ نایاب 'اسٹار وارز لیگو کلیکشن' (Star Wars Lego Collection)، جس کی مالیت تقریباً 2 لاکھ ڈالرز (تقریباً ساڑھے 5 کروڑ پاکستانی روپے) تھی، اس اسٹور پر فروخت کے لیے 'کنسائنمنٹ' (Consignment) معاہدے کے تحت رکھا تھا [2، 4]۔ معاہدے کے مطابق، فروخت ہونے تک یہ کلیکشن مینسیل فیملی کی ملکیت رہنا تھا [1، 2]۔
تاہم، چند ماہ بعد کمپنی کی کارپوریٹ انتظامیہ نے مبینہ واجبات کی عدم ادائیگی کا جواز بنا کر راتوں رات اس اسٹور کا کنٹرول خود سنبھال لیا، تالے تبدیل کر دیے اور سابق مالکان کو پولیس کی دھمکی دے کر باہر نکال دیا [2، 4، 7]۔ اس کارروائی کے دوران مینسیل فیملی کا قیمتی اور نایاب کلیکشن بھی دکان کے اندر ہی موجود تھا، جسے کارپوریٹ انتظامیہ نے مبینہ طور پر ضبط کر کے بیچنا شروع کر دیا اور اصل مالکان کو رقم یا سامان واپس کرنے سے صاف انکار کر دیا [2، 4، 6]۔
کائی میک السٹر کی دھمکی آمیز آڈیو لیک
یوٹیوب پر مشہور انویسٹی گیٹو تخلیق کاروں کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ وائرل ہوا [4، 9]۔ اسٹور کے سابق مالکان نے کارپوریٹ ٹیک اوور کی اس رات کی ایک آڈیو ریکارڈنگ جاری کی ہے، جس میں ڈائریکٹر آف آپریشنز کائی میک السٹر کو صاف طور پر سابق فرنچائز مالکان کو دھمکیاں دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ میں میک السٹر کہتے ہیں: "اگر تم نے اس کارروائی کے خلاف لڑنے کی کوشش کی، تو تم خود کو ایک بہت بڑی مصیبت (Shit) میں ڈال لو گے۔ یہ ایک دھمکی کی طرح لگ رہا ہے، اور میں یہ تسلیم کرتا ہوں کیونکہ ایک طرح سے یہ دھمکی ہی ہے"۔
کارپوریٹ کا مؤقف اور قانونی جنگ
شروع میں کمپنی کی کارپوریٹ انتظامیہ اور سی ای او ایمن میک نیف (Ammon McNeff) نے یہ مؤقف اپنایا کہ ان کی پالیسی میں کنسائنمنٹ پر کام کرنا سخت ممنوع ہے، اس لیے وہ اس نقصان کے ذمہ دار نہیں ہیں [2، 4، 9]۔ لیکن سابق مالکان نے اصل کنٹریکٹ پیپرز پبلک کر دیے ہیں جس میں کمپنی کی طرف سے اس کلیکشن کو رکھنے کی واضح اجازت موجود تھی۔ سابق مالکان نے اب کارپوریٹ انتظامیہ کے خلاف معاہدے کی خلاف ورزی، چوری اور ہتکِ عزت کا باقاعدہ مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ دوسری جانب انٹرنیٹ پر بائیکاٹ کی مہم کے بعد کمپنی کے مختلف اسٹورز کو بندش اور عوامی غصے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ اسکینڈل اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح کارپوریٹ کمپنیاں اپنے مالی مفادات کے لیے چھوٹے کاروباریوں اور عام کلیکٹرز کے حقوق کو پامال کرتی ہیں۔

Comments
Post a Comment