شام کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی ٹام بیرک نے اتوار کے روز ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ شام اب پورے خطے کے لیے سفارت کاری، باہمی انضمام اور امید کی ایک نئی علاقائی صف بندی کے لیے ایک تجربہ گاہ (لیبارٹری) بن چکا ہے۔ ان کا یہ بیان شامی قیادت کے ساتھ ہونے والی حالیہ اہم ملاقاتوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
Just over a year ago, @POTUS visionary meeting with President Ahmed al-Sharaa in Saudi Arabia opened a new chapter — announcing the lifting of sanctions to “give Syria a chance at greatness.”
— Ambassador Tom Barrack (@USAMBTurkiye) May 17, 2026
A bold and hopeful gesture for Syria and the region.
Under President al-Sharaa’s… https://t.co/xTQuX06Rbv
دمشق میں اعلیٰ سطح کی ملاقات
امریکی ایلچی ٹام بیرک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جاری اپنے ایک پیغام میں بتایا کہ انہوں نے دمشق کے پیپلز پیلس میں شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات کی، جس میں شام اور خطے کی مجموعی صورتحال سمیت دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ٹام بیرک کا کہنا تھا کہ صدر احمد الشرع کی قیادت اور شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کی انتھک سفارتی کوششوں کی بدولت شام نے "شاندار اور نمایاں" پیش رفت حاصل کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شام کے سامنے موجود نئے مواقع شامی عوام کے لیے تیز رفتار ترقی اور خطے میں پائیدار استحکام کا باعث بنیں گے۔
معاشی اور علاقائی تعاون پر توجہ
شام کی سرکاری نیوز ایجنسی (SANA) کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں جہاں ایک طرف علاقائی سلامتی اور سفارتی صف بندی پر بات ہوئی، وہیں دوسری طرف دونوں ممالک کے مابین اقتصادی روابط کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ مشرقِ وسطیٰ میں آنے والی اس بڑی تبدیلی کو ماہرین خطے میں امن اور استحکام کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔
شام کی نئی سفارتی اور سیاسی صف بندی نہ صرف ملک کے اندرونی حالات بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے معاشی اور جغرافیائی منظر نامے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

Comments
Post a Comment