مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک بار پھر انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ ایران نے اتوار کے روز امریکی بحری ناکہ بندی کا بھرپور مقابلہ کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو بحیرہ عمان (Sea of Oman) امریکی جنگی جہازوں کا "قبرستان" بن سکتا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ڈرون حملوں اور خفیہ فوجی اڈوں کے انکشافات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
ناکہ بندی اعلانِ جنگ ہے: ایران
ایرانی سپریم لیڈر کے اعلیٰ فوجی مشیر میجر جنرل محسن رضائی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر گفتگو کرتے ہوئے امریکہ کو سخت الفاظ میں پیچھے ہٹنے کا مشورہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بحری ناکہ بندی کو بین الاقوامی قوانین کے تحت 'اعلانِ جنگ' سمجھا جاتا ہے اور اس کا جواب دینا ایران کا قدرتی حق ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کے لیے ہمیشہ کھلا ہے، لیکن کسی بھی غیر ملکی فوجی مداخلت اور سیکیورٹی کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کے لیے اسے بند کر دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ امریکہ گزشتہ ماہ سے اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ میں ایرانی بحری ٹریفک کی ناکہ بندی کر رہا ہے۔
عراق میں اسرائیل کے دو خفیہ فوجی اڈے بے نقاب
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف فضائی کارروائیوں، ایندھن بھرنے اور طبی امداد کی فراہمی کے لیے عراق کے مغربی صحرا میں دو خفیہ فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک مقامی عراقی چرواہے نے وہاں مشکوک فوجی سرگرمیاں دیکھیں، جس کے بعد وہ چرواہا مردہ پایا گیا اور تحقیقات کے لیے جانے والی عراقی فورسز پر بھی حملہ ہوا۔ دوسری جانب، عراق کے فوجی ترجمان صباح النعمان نے واضح کیا ہے کہ بغداد اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
سعودی عرب پر ڈرون حملے اور اسرائیل ہائی الرٹ پر
خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب سعودی عرب نے عراقی فضائی حدود سے داخل ہونے والے تین بارود بردار ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ کویت اور قطر نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی خودمختاری کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اسی دوران اسرائیلی میڈیا کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان آدھے گھنٹے سے زائد طویل ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس کے بعد اسرائیلی فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ امریکہ کی جانب سے ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ حملوں کی صورت میں وہ فوری جنگ میں شامل ہو سکے۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ
امن مذاکرات میں تعطل اور متحدہ عرب امارات کے جوہری پاور پلانٹ پر حالیہ ڈرون حملے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ برینٹ کرڈ کے سودے 2.03 ڈالر کے اضافے کے ساتھ 111.29 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل (WTI) 2.31 ڈالر بڑھ کر 107.73 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں بھی کوئی واضح بریک تھرو نہ ہونا معاشی مارکیٹ کے لیے مایوس کن ثابت ہوا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امن معاہدے کو مستقل شکل نہ دی گئی تو خطہ ایک ایسی ہولناک جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑیں گے۔

Comments
Post a Comment