صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے تمباکو نوشی کے بڑھتے ہوئے نقصانات اور صحت کے خطرات کے خلاف ملک گیر سطح پر اجتماعی ذمہ داری اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن (World No Tobacco Day) کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں صدر زرداری نے کہا کہ تمباکو کا استعمال نہ صرف عوامی صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے بلکہ یہ ملک پر بھاری معاشی بوجھ کا سبب بھی بن رہا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔
نوجوان نسل کو بچانا اولین ترجیح
صدر آصف علی زرداری نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ تمباکو بنانے والی کمپنیاں اور مافیاز اب روایتی سگریٹ کے ساتھ ساتھ جدید الیکٹرانک مصنوعات (جیسے ای سگریٹ اور ویپس) کے ذریعے نوجوانوں اور بچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہماری نوجوان نسل ملک کا مستقبل ہے اور انہیں تمباکو کی اس لت سے محفوظ رکھنا حکومت، والدین، اساتذہ اور سول سوسائٹی کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسکولوں اور کالجوں کی سطح پر آگاہی مہم چلانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ نئی نسل کو سگریٹ نوشی کے آغاز سے ہی روکا جا سکے۔
سخت قوانین اور صحت کے شعبے پر بوجھ
اپنے پیغام میں صدرِ مملکت نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا کہ وہ تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے موجودہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروائیں۔ انہوں نے سگریٹ کی فروخت، ٹیکسز اور عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کی پابندی کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر بات کی۔ صدر نے یاد دلایا کہ تمباکو نوشی کے باعث کینسر، دل کے امراض اور سانس کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کے ہیلتھ کیئر سسٹم پر اربوں روپے کا اضافی دباؤ پڑ رہا ہے۔
صدر زرداری نے عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو ایک صحت مند اور تمباکو سے پاک معاشرہ بنانے کے لیے حکومت تمام ممکنہ اقدامات کرتی رہے گی، تاہم اس مقصد کا حصول عوامی تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

Comments
Post a Comment