خوشیاں ماتم میں بدل گئیں؛ پہلے بیٹے کی ولادت سے چند گھنٹے قبل فلسطینی باپ شہید


 غزہ سے ایک دل دہلا دینے والی خبر سامنے آئی ہے جہاں ایک فلسطینی نوجوان اپنے پہلے بچے کی دنیا میں آمد کی خوشی دیکھنے سے چند گھنٹے قبل ہی اسرائیلی حملے میں شہید ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق، فلسطینی نوجوان اپنی اہلیہ کی پہلی زچگی (Delivery) کے حوالے سے انتہائی پرجوش تھا اور ہسپتال میں ننھے مہمان کے استقبال کی تیاریاں مکمل کر چکا تھا۔ تاہم، قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا؛ بچے کی ولادت سے محض چند گھنٹے پہلے ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے نے اس نوجوان کی زندگی کا چراغ گل کر دیا۔

خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہید ہونے والے نوجوان کا خواب تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو اپنی گود میں اٹھائے، لیکن اس کی شہادت کے تھوڑی دیر بعد جب اس کے بیٹے کی ولادت ہوئی تو وہ باپ کے سائے سے محروم ہو چکا تھا۔ ہسپتال کے کوریڈور جہاں مٹھائیاں بانٹی جانی تھیں، وہاں اب صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے۔

غزہ میں جاری حالیہ کشیدگی کے دوران ایسے کئی واقعات سامنے آ رہے ہیں جہاں معصوم شہری اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشیوں سے محروم کیے جا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے کو جنگ کے ہولناک انسانی اثرات کی ایک اور المناک مثال قرار دیا ہے۔

Comments