محسن نقوی کا ایک ہفتے میں دوسرا دورہِ ایران، پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ سے ملاقات

پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی ایک ہفتے سے بھی کم وقت کے دوران اپنے دوسرے اہم دورے پر تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں انہوں نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے سربراہ جنرل احمد وحیدی اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، یہ دورہ امریکہ اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کو ختم کرنے کے لیے جاری پاکستان کی سفارتی کوششوں کا حصہ ہے۔

امریکی تجاویز پر مشاورت اور مذاکرات کا نازک مرحلہ

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی قیادت میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات ایک انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی اس دورے میں امریکی حکام کی جانب سے دی گئی ایک "تازہ تجارتی اور سفارتی پیشکش" ایرانی قیادت کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ اس نئی امریکی تجویز میں ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی جیسے امور شامل ہیں، تاہم امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنے موقف میں کوئی لچک نہیں دکھائی۔

محسن نقوی نے تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے بھی ملاقات کی، جبکہ ان کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقاتیں متوقع ہیں۔ پاکستان کی اولین ترجیح دونوں ممالک کے درمیان عارضی جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنا اور اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات کا دوسرا دور منعقد کروانا ہے۔

ٹرمپ کا فضائی حملے روکنے کا فیصلہ اور علاقائی دباؤ

مذاکرات میں یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ نئے فضائی حملے عارضی طور پر مؤخر کر دیے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے متعدد ممالک نے انہیں مطلع کیا ہے کہ دونوں فریقین ایک حتمی معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، اس لیے حملوں کو روک دیا جائے۔

امریکہ اور ایران کی سخت شرائط: تعطل برقرار

ایرانی میڈیا کے مطابق، اس جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے دونوں ممالک اب بھی اپنی سخت شرائط پر اڑے ہوئے ہیں۔ امریکہ نے شرط رکھی ہے کہ ایران اپنا 400 کلوگرام افزودہ یورینیئم امریکہ کے حوالے کرے، صرف ایک جوہری تنصیب باقی رکھے اور جنگ کا خاتمہ تمام محاذوں پر یکساں ہو۔ دوسری جانب، ایران کا مطالبہ ہے کہ نہ صرف پابندیاں اٹھائی جائیں اور منجمد اثاثے واپس کیے جائیں، بلکہ آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کیا جائے اور جنگی نقصانات کا معاوضہ بھی دیا جائے۔

پاکستان اس وقت خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کے لیے تہران اور واشنگٹن کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہے، اور سفارتی حلقے محسن نقوی کے ان پیاپے دوروں کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Mohsin Naqvi Meets IRGC Chief in Tehran During Second Visit Within a Week


Pakistan's Interior Minister Mohsin Naqvi arrived in Tehran for his second visit in less than a week to hold high-level talks with Iranian authorities, including the Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC) chief, Gen Ahmad Vahidi. According to official sources, Pakistan-led mediation efforts between Washington and Tehran have entered a "critical phase."

Discussion Over Fresh US Proposals

Government sources revealed that Naqvi's sudden visit is aimed at discussing a "fresh" US proposal with Iranian leaders to resolve the ongoing Middle East conflict. The new proposal reportedly includes slightly better incentives for Iran, covering frozen assets and international sanctions. However, Washington has offered no new concessions regarding Iran’s nuclear program, which remains a core diplomatic hurdle.

During his stay, Naqvi met his Iranian counterpart, Eskandar Momeni, and is expected to hold meetings with Iranian President Masoud Pezeshkian and Foreign Minister Abbas Araghchi. Pakistan's top priority is to stabilize the current ceasefire and pave the way for a second round of direct negotiations in Islamabad.

Trump Delays Strikes Following Regional Diplomacy

The prospects for direct talks improved significantly after US President Donal Trump decided to postpone planned military strikes against Iran. Trump stated that leaders from Saudi Arabia, Qatar, and the UAE requested a delay, believing that both sides are getting remarkably close to a diplomatic breakthrough.

The Deadlock of Stiff Conditions

Despite active diplomatic channels, a complete breakthrough remains difficult as both sides hold contrasting demands. Washington requires Iran to transfer 400 kilograms of enriched uranium to the US, retain only one nuclear facility, and link the ceasefire to an end to conflict across all regional fronts. Iran, conversely, demands the complete lifting of sanctions, return of frozen assets, war reparations, and recognition of its absolute sovereignty over the strategic Strait of Hormuz.

Pakistan continues to push both nations to sustain diplomatic efforts rather than returning to active warfare, keeping regional stability at the forefront of its geopolitical mission.

Comments