مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی انتظامیہ کی جانب سے کشمیری مسلمانوں کے خلاف مذہبی تعصب پر مبنی انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، انتہا پسند مودی سرکار نے اپنے کٹھ پتلی اداروں کو استعمال کرتے ہوئے اب وادی کے مدارس، دینی درسگاہوں اور مسلم تعلیمی اداروں کو براہِ راست نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے تاکہ کشمیریوں کی مذہبی آزادی کو سلب کیا جا سکے۔
سری نگر اور شوپیاں میں گھروں اور اسکولوں کی تلاشی
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بھارت کی بدنام زمانہ تفتیشی ایجنسی 'قومی تحقیقاتی ادارے' (NIA) نے سری نگر اور شوپیاں سمیت وادی کے تین مختلف مقامات پر بڑے پیمانے پر چھاپے مارے ہیں۔ کارروائی کے دوران این آئی اے کے اہلکاروں نے مقامی پولیس اور پیرامیلیٹری فورسز کے ہمراہ شوپیاں کے علاقے 'امام صاحب' میں واقع ایک مقامی اسکول کی بھی تفصیلی تلاشی لی اور وہاں موجود ریکارڈ کو قبضے میں لے لیا۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان چھاپوں کا مقصد کشمیری مسلمانوں میں خوف و ہراس پھیلانا اور ان کے تعلیمی و مذہبی نیٹ ورک کو مفلوج کرنا ہے۔ تلاشی کی کارروائیوں کے دوران چادر اور چار دیواری کے تقدس کو بری طرح پامال کیا گیا، جس پر مقامی آبادی میں شدید تشویش اور غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں
مقبوضہ کشمیر میں جب سے مودی حکومت نے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کیا ہے، تب سے مسلم اکثریتی آبادی کو دبانے کے لیے ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔ حریت رہنماؤں اور مقامی حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے بھارتی ایجنسیوں کی ان من مانی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وادی میں مسلمانوں کے مذہبی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
بھارت کی ان فاشسٹ پالیسیوں کے باوجود کشمیریوں کی آزادی اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کو طاقت کے بل بوتے پر دبایا نہیں جا سکا۔

Comments
Post a Comment