وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز قطر کے مشہور تعمير گروپ (Taameer Group) کے وفد سے ملاقات کی ہے، جس کی قیادت گروپ کے بانی محمد حسین العلی کر رہے تھے۔ وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق، اس اہم ملاقات میں پاکستان کے سیاحت، ہاسپیٹلٹی (ہوٹلنگ)، رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
قطر پاکستان کا دیرینہ دوست ہے؛ وزیر اعظم کا مؤقف
ملاقات کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے قطر کو پاکستان کا ایک قابلِ اعتماد اور دیرینہ دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ قطر نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ موجودہ حکومت ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے راستے میں حائل تمام رکاوٹیں دور کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) ایک ون ونڈو آپریشن کے طور پر کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ قطری وفد کو منصوبوں کے جائزے کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کریں۔
A delegation of Tameer Group Qatar led by its founder Muhammad Hussain Al Ali calls on Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif. pic.twitter.com/hPDTnhCpue
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) May 22, 2026
تعمیر گروپ کے بانی محمد حسین العلی نے وزیر اعظم کو پاکستان میں اپنے جاری اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے پر حکومت کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ایس آئی ایف سی (SIFC) کا فریم ورک غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور معاشی تعاون کو مضبوط بنانے میں انتہائی مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ اس ملاقات میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔
ایس آئی ایف سی (SIFC) کا پس منظر اور چیلنجز
واضح رہے کہ پاکستان نے 2023 میں اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کا قیام اس وقت عمل میں لایا تھا جب خلیجی ممالک کی جانب سے پاکستانی محکموں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی کی شکایات سامنے آئی تھیں۔ ایس آئی ایف سی نے وفاقی اور صوبائی محکموں کے درمیان دوریوں کو ختم کرنے اور فائل ورک کو تیز کرنے میں تو کامیابی حاصل کی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بھاری ٹیکسز، بجلی اور توانائی کی بلند قیمتیں، اور بیرونی معاشی عدم استحکام جیسے بڑے مسائل اب بھی سرمایہ کاری کی راہ میں بڑے چیلنجز بنے ہوئے ہیں۔
کونسل کو زراعت، دفاع، آئی ٹی، توانائی، معدنیات اور سیاحت سمیت اہم شعبوں میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) بڑھانے کا ہدف دیا گیا ہے، اور قطری وفد کا یہ دورہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔

Comments
Post a Comment