وزیر اعظم شہباز شریف کی قطری وفد سے ملاقات، سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق


وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز قطر کے مشہور تعمير گروپ (Taameer Group) کے وفد سے ملاقات کی ہے، جس کی قیادت گروپ کے بانی محمد حسین العلی کر رہے تھے۔ وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق، اس اہم ملاقات میں پاکستان کے سیاحت، ہاسپیٹلٹی (ہوٹلنگ)، رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

قطر پاکستان کا دیرینہ دوست ہے؛ وزیر اعظم کا مؤقف

ملاقات کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے قطر کو پاکستان کا ایک قابلِ اعتماد اور دیرینہ دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ قطر نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ موجودہ حکومت ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے راستے میں حائل تمام رکاوٹیں دور کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) ایک ون ونڈو آپریشن کے طور پر کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ قطری وفد کو منصوبوں کے جائزے کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کریں۔

تعمیر گروپ کے بانی محمد حسین العلی نے وزیر اعظم کو پاکستان میں اپنے جاری اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے پر حکومت کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ایس آئی ایف سی (SIFC) کا فریم ورک غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور معاشی تعاون کو مضبوط بنانے میں انتہائی مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ اس ملاقات میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔

ایس آئی ایف سی (SIFC) کا پس منظر اور چیلنجز

واضح رہے کہ پاکستان نے 2023 میں اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کا قیام اس وقت عمل میں لایا تھا جب خلیجی ممالک کی جانب سے پاکستانی محکموں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی کی شکایات سامنے آئی تھیں۔ ایس آئی ایف سی نے وفاقی اور صوبائی محکموں کے درمیان دوریوں کو ختم کرنے اور فائل ورک کو تیز کرنے میں تو کامیابی حاصل کی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بھاری ٹیکسز، بجلی اور توانائی کی بلند قیمتیں، اور بیرونی معاشی عدم استحکام جیسے بڑے مسائل اب بھی سرمایہ کاری کی راہ میں بڑے چیلنجز بنے ہوئے ہیں۔

کونسل کو زراعت، دفاع، آئی ٹی، توانائی، معدنیات اور سیاحت سمیت اہم شعبوں میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) بڑھانے کا ہدف دیا گیا ہے، اور قطری وفد کا یہ دورہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

PM Shehbaz Meets Qatari Delegation to Boost Investment Under SIFC


Prime Minister Shehbaz Sharif on Friday held high-level talks with a delegation from the Qatar-based Taameer Group, led by its founder Muhammad Hussein Al Ali. The meeting focused on exploring substantial investment opportunities in Pakistan’s tourism, hospitality, real estate, and construction sectors, according to an official statement from the PM Office.

Qatar as a Longstanding Ally

During the discussion, PM Shehbaz described Qatar as a dependable and longstanding friend that has consistently stood by Pakistan during challenging economic times. He emphasized that the government is actively prioritizing foreign direct investment (FDI) and has successfully eliminated major bureaucratic obstacles through the Special Investment Facilitation Council (SIFC) framework.

Taameer Group's founder briefed the premier on the company's ongoing and pipeline infrastructure initiatives in Pakistan, expressing a robust interest in scaling up investments. He lauded the SIFC's single-window facility, noting that it significantly improves the ease of doing business. The high-profile meeting was also attended by Deputy PM Ishaq Dar, Planning Minister Ahsan Iqbal, and Information Minister Attaullah Tarar.

The SIFC Mandate and Structural Challenges

Established in 2023, the SIFC was formed to streamline investment procedures and facilitate privatization after Gulf nations raised concerns over inter-departmental coordination bottlenecks in Pakistan. While the council has successfully resolved communication gaps between various state entities, core macroeconomic challenges—such as heavy corporate taxation, soaring energy tariffs, and fiscal constraints—remain critical hurdles that require long-term solutions.

The SIFC continues to target key growth areas including agriculture, IT, mineral extraction, defense production, and tourism to stabilize Pakistan's external economic sector.

Comments