معروف شخصیت رسل اینڈریوز نے دنیا کو ایک افسوسناک خبر سے آگاہ کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ وہ اعصابی نظام کو مفلوج کر دینے والی ایک خطرناک اور لاعلاج بیماری 'اے ایل ایس' (ALS) کا شکار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے یہ اہم انکشاف سی این این (CNN) کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنی منگیتر ایریکا ٹیزل کے ہمراہ کیا۔ رسل اینڈریوز کے مطابق ان میں اس بیماری کی تشخیص گزشتہ سال 2025 کے آخری مہینوں میں ہوئی تھی۔
ابتدائی علامات اور تشخیص کا سفر
انٹرویو کے دوران رسل اینڈریوز نے بتایا کہ آغاز میں انہیں ایسا لگا جیسے انہیں فالج کا جھٹکا لگا ہو یا کندھے کی نس دب گئی ہو۔ انہیں روزمرہ کے کاموں میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں سے چائے کے کپ اور پانی کے گلاس گرنے لگے تھے۔ ان علامات کے بعد انہوں نے فوری طور پر معالج سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ہالی ووڈ ہڑتالوں کے دوران انشورنس کے خاتمے جیسی مشکلات کا ذکر بھی کیا، جس کے بعد بالآخر ایک ماہرِ اعصابیات (Neurologist) نے ان میں اس بیماری کی تصدیق کی۔
ان کی منگیتر ایریکا ٹیزل نے بتایا کہ شروع میں رسل کے چلنے پھرنے کے انداز میں معمولی تبدیلیاں آئیں جنہیں دیکھ کر وہ فکر مند ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بیماری کی تشخیص ہوئی تو دل کو سکون تو نہیں ملا لیکن یہ ضرور سمجھ آگیا کہ اصل مسئلہ کیا ہے اور اب اس کا مقابلہ کیسے کرنا ہے۔
اے ایل ایس (ALS) کیا ہے؟
طبی ماہرین کے مطابق 'اے ایل ایس' (Amyotrophic Lateral Sclerosis) ایک ایسا موذی مرض ہے جو انسان کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی میں موجود اعصابی خلیوں کو آہستہ آہستہ تباہ کر دیتا ہے۔ اس بیماری کے نتیجے میں جسم کے پٹھے شدید کمزور ہو جاتے ہیں، بولنے میں دشواری ہوتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان مکمل طور پر مفلوج ہو جاتا ہے۔ فی الحال دنیا میں اس بیماری کا کوئی مستقل علاج موجود نہیں ہے اور تشخیص کے بعد مریضوں کی اوسط عمر 3 سے 5 سال ہوتی ہے، اگرچہ کچھ لوگ دہائیوں تک بھی زندہ رہتے ہیں۔
بلاشرط محبت اور دیکھ بھال کا عزم
اس مشکل گھڑی میں ایریکا ٹیزل اب رسل اینڈریوز کی دیکھ بھال کرنے والی (Caregiver) کی ذمہ داری سنبھال رہی ہیں۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ اس تجربے نے ان کے دل میں بلاشرط محبت کے جذبے کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اس جوڑے نے ایک فلاحی ادارے 'اے ایل ایس نیٹ ورک' میں شمولیت کا اعلان بھی کیا ہے جو اس بیماری سے لڑنے والے مریضوں کی دیکھ بھال، علاج تک رسائی اور معاشرے میں آگاہی پھیلانے کے لیے کام کر رہا ہے۔
رسل اینڈریوز اور ان کی منگیتر کا یہ مشترکہ انٹرویو اس جان لیوا بیماری کے خلاف ان کی جراتمندانہ جنگ اور لازوال محبت کی ایک زندہ مثال بن کر سامنے آیا ہے۔

Comments
Post a Comment