جرمنی بھر میں ہزاروں طلبہ نے حکومت کی نئی دفاعی پالیسی اور دوبارہ عسکری صف بندی کے خلاف اسکولوں کے بائیکاٹ اور ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ منتظمین کے مطابق جمعہ کے روز ہونے والی اس ہڑتال میں 50 ہزار سے زائد طلبہ کی شرکت متوقع ہے، جو حکومت کے اس اقدام کو نوجوانوں کو "جنگ کا ایندھن" بنانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
تعلیمی وزارتوں اور اساتذہ کی تنظیموں کی جانب سے ہڑتال میں شامل ہونے والے طلبہ کو تادیبی کارروائی اور اسکول سے اخراج کی دھمکیوں کے باوجود، احتجاجی تحریک کے حوصلے بلند ہیں۔ تحریک کے ترجمان ہانس کرائمر کا کہنا ہے کہ حکومت اور صنعتیں جنگ کی تیاریاں کر رہی ہیں اور اس عمل میں نوجوانوں سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب فریڈرک مرز کی حکومت نے 'ملٹری سروس ماڈرنائزیشن ایکٹ' کے تحت 18 سالہ نوجوانوں کے لیے لازمی سوالنامے اور طبی معائنے متعارف کروائے ہیں۔
نئے قانون کے تحت 17 سے 45 سال کی عمر کے مردوں پر تین ماہ سے زائد عرصے کے لیے بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے، جس کے لیے انہیں فوج سے اجازت لینا ہوگی۔ اگرچہ فی الحال لازمی بھرتی شروع نہیں کی گئی، لیکن وزیر دفاع بورس پسٹوریس نے واضح کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر یہ آپشن بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جرمن حکومت کا ہدف آئندہ 10 سالوں میں اپنی پیشہ ور فوج کی تعداد 2 لاکھ 60 ہزار تک پہنچانا ہے۔
احتجاج کے لیے 8 مئی کی تاریخ کا انتخاب جان بوجھ کر کیا گیا ہے، جو دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی کی شکست اور فتحِ یورپ کی سالگرہ ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس دن کے ذریعے دنیا کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ بے لگام عسکریت پسندی کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ طلبہ نے وفاقی بجٹ کا بڑا حصہ ٹینکوں اور بموں پر خرچ کرنے اور تعلیمی نظام کو نظر انداز کرنے پر بھی شدید تنقید کی ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف اسکولوں کی عمارتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور اساتذہ کی شدید کمی ہے، تو دوسری طرف حکومت دفاعی اخراجات کو 2030 تک جی ڈی پی کے 3.5 فیصد تک لے جانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ طلبہ کے مطابق، وہ ایک ایسی ریاست کے لیے لڑنے کو تیار نہیں جو خود اپنے نوجوانوں کے مستقبل کے لیے لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

Comments
Post a Comment