متحدہ عرب امارات پر میزائلوں اور ڈرونز کی برسات!

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے مسلسل دوسرے روز ایران کی جانب سے داغے گئے متعدد بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے ناکارہ بنا دیا ہے۔ اماراتی حکام کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں سنائی دینے والے دھماکے دراصل دفاعی نظام کی جانب سے دشمن کے اہداف کو فضا میں ہی تباہ کرنے کے نتیجے میں ہوئے تھے۔

یہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب پیر کے روز فجیرہ کے تیل کی تنصیبات پر ایرانی ڈرون حملے میں تین افراد زخمی ہو گئے تھے۔ فجیرہ متحدہ عرب امارات کا اہم ترین تیل برآمدی ٹرمینل ہے جو آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے چار کروز میزائل فائر کیے گئے تھے جن میں سے تین کو مار گرایا گیا جبکہ ایک سمندر میں جا گرا۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے ان حملوں کی تردید کرتے ہوئے اسے امریکی "فوجی مہم جوئی" کا نتیجہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ سفارتی عمل میں طاقت کا غیر ضروری استعمال کر رہا ہے۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی انتہائی پیچیدہ ہو چکی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ بحری تجارت کی سیکیورٹی کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے خطرے میں ڈالا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول ختم نہیں کرے گا۔ جواب میں امریکی وزیر دفاع نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کا "پروجیکٹ فریڈم" خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے تاکہ تجارتی جہاز رانی کو ایرانی جارحیت سے بچایا جا سکے۔

ادھر لبنان کی صورتحال بھی تشویشناک ہے جہاں اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ 17 اپریل کو جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود اس نے جنوبی لبنان میں تقریباً 500 مقامات پر حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ کے حملوں میں اب تک 5 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 33 زخمی ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں مزید 17 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جس سے مارچ سے اب تک اموات کی کل تعداد 2,696 تک پہنچ گئی ہے۔

حزب اللہ نے بھی اسرائیلی فوج کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور مختلف سرحدی علاقوں میں اسرائیلی ٹینکوں اور بلڈوزروں کو ڈرونز اور گائیڈڈ میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں جاری امن مذاکرات کے باوجود خطے میں جاری یہ مسلح جھڑپیں ایک بڑی عالمی جنگ کے خطرے کو بڑھا رہی ہیں۔

Comments