ٹرمپ کا انکشاف اور تہران کا مؤقف
ایک حالیہ انٹرویو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے اعلیٰ حکام کی جانب سے ان تک یہ پیغام پہنچایا گیا ہے کہ تہران اپنے جوہری پروگرام کو صرف پرامن مقاصد تک محدود رکھنے کا عزم رکھتا ہے۔ اگرچہ ماضی میں ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر سخت ترین معاشی پابندیاں عائد کی تھیں اور تاریخی جوہری معاہدے (JCPOA) سے علیحدگی اختیار کی تھی، تاہم اس نئے دعوے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ پسِ پردہ دونوں ممالک کے درمیان کسی نئے معاہدے یا رابطے کی کوششیں جاری ہیں۔
دوسری جانب، ایران کی حکومت ہمیشہ سے یہ مؤقف اپناتی آئی ہے کہ ان کا ایٹمی پروگرام صرف بجلی کی پیداوار اور طبی شعبوں کے لیے ہے اور وہ ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ تاہم، ٹرمپ کی جانب سے "براہِ راست یقین دہانی" کا دعویٰ عالمی برادری کے لیے حیران کن ہے۔
🚨 JUST IN: President Trump reveals IRAN HAS AGREED to NO NUCLEAR WEAPONS
— Eric Daugherty (@EricLDaugh) May 31, 2026
The terms: "We will not develop or in any way purchase a nuclear weapon."
"WE'RE GETTING WHAT WE WANT."
"I'm in NO HURRY...gasoline prices will tumble down, but if I'm in a hurry, I won't make a good… pic.twitter.com/6OKCRahEjn
عالمی سیاست پر ممکنہ اثرات
ماہرینِ خارجہ امور کے مطابق، اگر ٹرمپ کا یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کے خطے پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں:
- معاشی پابندیوں میں نرمی: اس یقین دہانی کے بعد امریکہ کی طرف سے ایران پر عائد سخت معاشی اور تیل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
- مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ کی کمی: اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی اور خلیجی ممالک میں سیکیورٹی کے خطرات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
- نیا عالمی معاہدہ: ٹرمپ اپنے دور میں ایک نیا "ایران ایٹمی معاہدہ" کرنے کے خواہش مند رہے ہیں، اور یہ پیش رفت اسی سلسلے کی کڑی ہو سکتی ہے۔
تاہم، مبصرین کا کہنا ہے کہ جب تک تہران یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باقاعدہ مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوتا، تب تک اس بیان کو صرف سفارتی بیانات تک ہی محدود دیکھا جائے گا۔

Comments
Post a Comment