اسلام آباد: اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشرا بی بی کی اپنی بیٹی اور اہلخانہ سے ملاقات، اور ذاتی معالج تک رسائی کی درخواست کی شدید مخالفت کر دی ہے۔ جیل انتظامیہ کا موقف ہے کہ ان ملاقاتوں کو جیل سے باہر 'سیاسی پیغام رسانی' کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو جیل کے نظم و ضبط کے خلاف ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر کے سامنے بشرا بی بی کی صاحبزادی مبشرہ مانیکا کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ اس موقع پر جیل سپرنٹنڈنٹ نے تحریری رپورٹ جمع کرائی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ اہلخانہ کی ملاقاتوں کے بعد سوشل میڈیا پر سیاسی بیانات اور سرگرمیاں سامنے آتی ہیں، جس سے جیل کی سیکیورٹی اور انتظامات متاثر ہوتے ہیں۔
رپورٹ میں خاص طور پر بشرا بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو کے سوشل میڈیا پوسٹس کا حوالہ دیا گیا اور موقف اپنایا گیا کہ ملاقاتوں کے بعد کیے جانے والے ٹویٹس انتظامیہ کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے جیل انتظامیہ کے ان دلائل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مریم ریاض وٹو بیرون ملک مقیم ہیں اور انہوں نے کبھی اڈیالہ جیل کا دورہ نہیں کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کسی دوسرے شخص کی سوشل میڈیا سرگرمی کو بنیاد بنا کر ایک بیٹی کو اپنی ماں سے ملنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل ساجد بیگ نے عدالت کو بتایا کہ جیل میں اس وقت 7,200 سے زائد قیدی موجود ہیں اور جیل مینوئل کے مطابق ملاقاتوں کا ایک باقاعدہ نظام موجود ہے جو ہفتے میں چھ دن کام کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملاقات پر پابندی مستقل نہیں ہے بلکہ موجودہ حالات اور انتظام کے پیشِ نظر فیصلہ کیا گیا ہے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ عدالت جیل مینوئل کے طریقہ کار کو مکمل طور پر سمجھنا چاہتی ہے تاکہ فریقین کے ساتھ انصاف ہو سکے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ متعلقہ افراد سے اس معاملے پر حلف نامہ حاصل کیا جائے۔
عدالت نے جیل انتظامیہ کو حکم دیا کہ وہ جیل مینوئل پر سختی سے عمل درآمد کریں اور اس دوران جب بھی ممکن ہو، بشرا بی بی کی ان کی بیٹی سے ملاقات کی سہولت فراہم کی جائے۔ کیس کی مزید سماعت 14 مئی تک ملتوی کر دی گئی ہے، جہاں تمام فریقین جیل قوانین کی روشنی میں مزید دلائل دیں گے۔
تحریر: ایڈیٹر ڈیلی حلیف

Comments
Post a Comment