ٹرمپ کا دورہ چین ختم؛ ایران جنگ اور تائیوان پر بیجنگ کا سخت موقف


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیجنگ کا اپنا اہم ترین دورہ مکمل کر کے روانہ ہو گئے ہیں۔ اس دورے کے دوران جہاں دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان روایتی گرمجوشی اور شاندار ضیافتوں کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا، وہی معاشی اور سیکیورٹی کے محاذ پر واشنگٹن کو کوئی بڑی یا ٹھوس کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب چین نے تائیوان کے معاملے پر امریکہ کو سخت وارننگ دی ہے اور ایران کے ساتھ جاری جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایران جنگ پر چین کا دوٹوک موقف

دورے کے آخری روز چینی وزارتِ خارجہ نے ایک انتہائی سخت اور واضح بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کا تسلسل اب بالکل بے معنی ہو چکا ہے۔ بیجنگ کا کہنا تھا کہ یہ تنازع سرے سے شروع ہی نہیں ہونا چاہیے تھا اور اسے مزید طول دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ چین نے زور دیا کہ اس جنگ کی وجہ سے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی چین شدید متاثر ہوئی ہے، اس لیے تمام بحری راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو فوری طور پر بحری آمد و رفت کے لیے کھولا جائے۔

اگرچہ صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ ایران کے ساتھ امن معاہدہ دیکھنے کے خواہشمند ہیں اور انہوں نے اس سلسلے میں مدد کی پیشکش بھی کی ہے، تاہم سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ چین کبھی بھی ایران پر ایسا دباؤ نہیں ڈالے گا جس سے بیجنگ کے اپنے اسٹریٹجک مفادات کو نقصان پہنچے، کیونکہ ایران خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے خلاف چین کا ایک اہم مہرہ ہے۔

ٹرمپ کا صبر جواب دے گیا، خلیج میں کشیدگی برقرار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیجنگ میں میڈیا سے گفتگو کے دوران اعتراف کیا ہے کہ ایران کے معاملے پر اب ان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے اور ایران کو اب ہر صورت ایک معاہدہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے یہ جنگ اسرائیل، سعودی عرب اور دیگر خلیجی اتحادیوں کے تحفظ کے لیے شروع کی تھی۔ تہران کے یورینیم کے ذخائر کے حوالے سے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ان ذخائر کو امریکی تحویل میں لینا چاہتے ہیں، چاہے یہ اقدام صرف پبلک ریلیشنز (سیاسی ساکھ) کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خلیج عمان میں کشیدگی عروج پر ہے۔ متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ کے قریب ایرانی فورسز کی جانب سے ایک بحری جہاز کو قبضے میں لے کر ایران کی طرف موڑنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ اومان کے ساحل کے قریب ایک تجارتی جہاز پر ڈرون یا میزائل حملے کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔

مستقبل کے تعلقات اور نئی اُمیدیں

ٹھوس معاشی معاہدوں کی کمی کے باوجود چینی وزارتِ خارجہ نے اس سربراہی اجلاس کو ایک سنگِ میل قرار دیا ہے۔ بیجنگ کے مطابق، صدر شی اور ٹرمپ نے اگلے تین سال اور اس سے آگے کے عرصے کے لیے "تعمیراتی اور تزویراتی استحکام" پر مبنی پاکٹس بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق، چین نے اس بات پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ ایران کو کوئی فوجی ساز و سامان فراہم نہیں کرے گا اور مشرقِ وسطیٰ پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے امریکہ سے مزید خام تیل خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

نومبر میں ہونے والے امریکی مڈٹرم الیکشن سے قبل ٹرمپ اس جنگ کو ختم کرانے کے لیے چینی اثر و رسوخ کا سہارا لینا چاہتے ہیں، لیکن بیجنگ کا سخت رخ یہ ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن کے لیے یہ راہ اتنی آسان نہیں ہوگی۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Trump Leaves Beijing with Few Wins, Many Warm Words for Xi


US President Donald Trump departed China following a high-stakes visit filled with grand pageantry but leaving markets with little to cheer. While Trump heavily praised his host, Beijing issued a blunt warning over Taiwan and stated that the US-led war with Iran should never have started in the first place.

China Demands an End to the Iran War

On the final day of the summit, China’s foreign ministry declared there was "no point in continuing" the conflict. Beijing emphasized that finding an early resolution is crucial for global supply chains and energy security. The diplomatic friction underscores China's reluctance to heavily pressure Tehran, which serves as a strategic counterweight to US influence in the Middle East.

Despite the lack of major breakthrough agreements, the White House noted that both leaders agreed on the vital need to keep the Strait of Hormuz open. President Xi Jinping reportedly expressed interest in purchasing more American oil to reduce China's future dependence on Middle Eastern trade routes, while reassuring Trump that Beijing would not supply military equipment to Iran.

Trump Warns Patience with Iran is Running Out

Speaking in an interview following his talks with Xi, Trump stated that his patience with Iran was running thin and urged Tehran to make a deal. He defended the military campaign, noting it was executed to assist regional allies like Israel and Saudi Arabia. The rhetoric comes amid fresh maritime incidents, including reports of Iranian personnel seizing a vessel off the coast of the UAE.

Strategic Outlook

China’s Ministry of Foreign Affairs described the summit as a landmark moment that brought "much-needed stability" to bilateral ties. Moving forward, both nations have agreed to a shared vision aimed at building a constructive relationship over the next three years. However, with the US midterm elections approaching in November, Trump remains under intense domestic pressure to convert these warm words into tangible geopolitical resolutions.

Comments