عید الاضحیٰ کے قریب آتے ہی مویشی منڈیوں میں خریداروں اور بیپاریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کراچی اور دیگر بڑے شہروں کی مویشی منڈیوں میں آنے والے خریداروں نے انتظامیہ اور مختلف عناصر پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ منڈیوں میں پارکنگ، داخلہ اور جانوروں کی خریداری پر غیر قانونی فیسیں اور بھتہ وصول کیا جا رہا ہے، جس سے قربانی کے جانوروں کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔
پوشیدہ چارجز اور بیپاریوں کی دہائی
منڈی پہنچنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ ناموں کے برعکس منڈی کے مختلف مقامات پر پرچیاں کاٹ کر زبردستی پیسے وصول کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب، دور دراز علاقوں سے آئے بیپاریوں نے بھی شکایت کی ہے کہ ان سے چارے، پانی اور جگہ کے نام پر بھاری رقوم وصول کی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے وہ جانور سستے داموں بیچنے سے قاصر ہیں۔ انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث منڈیوں میں غنڈہ گردی اور لوٹ مار عروج پر ہے۔
شہریوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مویشی منڈیوں میں اس بھتہ خوری اور اوور چارجنگ کا فوری نوٹس لیا جائے اور خریداروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سخت مانیٹرنگ کا نظام وضع کیا جائے تاکہ عام آدمی آسانی سے قربانی کا فریضہ سرانجام دے سکے۔

Comments
Post a Comment