مویشی منڈیوں میں بھتہ خوری؛ خریداروں کے سنگین الزامات

cattle-market-extortion-news

عید الاضحیٰ کے قریب آتے ہی مویشی منڈیوں میں خریداروں اور بیپاریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کراچی اور دیگر بڑے شہروں کی مویشی منڈیوں میں آنے والے خریداروں نے انتظامیہ اور مختلف عناصر پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ منڈیوں میں پارکنگ، داخلہ اور جانوروں کی خریداری پر غیر قانونی فیسیں اور بھتہ وصول کیا جا رہا ہے، جس سے قربانی کے جانوروں کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔

پوشیدہ چارجز اور بیپاریوں کی دہائی

منڈی پہنچنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ ناموں کے برعکس منڈی کے مختلف مقامات پر پرچیاں کاٹ کر زبردستی پیسے وصول کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب، دور دراز علاقوں سے آئے بیپاریوں نے بھی شکایت کی ہے کہ ان سے چارے، پانی اور جگہ کے نام پر بھاری رقوم وصول کی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے وہ جانور سستے داموں بیچنے سے قاصر ہیں۔ انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث منڈیوں میں غنڈہ گردی اور لوٹ مار عروج پر ہے۔

شہریوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مویشی منڈیوں میں اس بھتہ خوری اور اوور چارجنگ کا فوری نوٹس لیا جائے اور خریداروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سخت مانیٹرنگ کا نظام وضع کیا جائے تاکہ عام آدمی آسانی سے قربانی کا فریضہ سرانجام دے سکے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Buyers Allege Cattle Market Extortion Ahead of Eid


As Eid-ul-Azha approaches, buyers and traders at major cattle markets are alleging widespread extortion and overcharging. Customers visiting the markets have raised serious concerns over illegal entry fees, exorbitant parking rates, and hidden charges being forcefully collected by contract staff, driving up the overall prices of sacrificial animals.

Traders and Customers Demand Action

Traders coming from rural areas have also complained about being heavily charged for basic facilities like water, fodder, and space management. Citizens and vendors have collectively urged provincial authorities and law enforcement agencies to intervene immediately, regulate pricing mechanisms, and eliminate illegal receipt systems inside the markets.

Comments