آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) نے ملک میں کام کرنے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کے اسٹوریج لائسنسوں کی تجدید کے عمل کو سخت ترین جانچ پڑتال کے دائرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے مصنوعی بحران، ذخیرہ اندوزی اور غیر قانونی اسٹوریج کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔
قوانین کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن
ذرائع کے مطابق، کئی آئل مارکیٹنگ کمپنیاں مقررہ معیار کے مطابق اپنے اسٹوریج ڈپوز برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہیں، جس کے باوجود وہ لائسنس کی تجدید کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ اوگرا نے اب واضح کر دیا ہے کہ بغیر کسی جسمانی تصدیق اور انفراسٹرکچر کے تفصیلی آڈٹ کے کسی بھی کمپنی کے لائسنس کی تجدید نہیں کی جائے گی۔ جو کمپنیاں قوانین پر پورا نہیں اتریں گی، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اس سے قبل، ملک میں پیٹرولیم بحران کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ کچھ کمپنیوں نے کاغذات میں اسٹوریج کی گنجائش زیادہ دکھائی تھی جبکہ حقیقت میں ان کے پاس تیل ذخیرہ کرنے کی مطلوبہ جگہ موجود نہیں تھی۔ ریگولیٹر اب اس خامی کو مستقل طور پر دور کرنا چاہتا ہے۔
سپلائی چین میں بہتری کی امید
صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اوگرا کے اس سخت رویے سے ملک کی پیٹرولیم سپلائی چین میں شفافیت آئے گی۔ کمپنیوں کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ ملک کی 20 دن کی تیل کی ضرورت کے مطابق اپنے اسٹوریج کے نظام کو اپ گریڈ کریں۔ اس آڈٹ کے بعد صرف وہی کمپنیاں مارکیٹ میں کام کر سکیں گی جو حقیقی معنوں میں سرمایہ کاری اور ملکی قوانین کا احترام کرتی ہیں۔
حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات کے تحت اوگرا کا یہ آڈٹ ملکی معیشت اور صارفین کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔

Comments
Post a Comment