پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس سے ایک اہم ملاقات کی ہے۔ سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی مباحثے کے موقع پر ہونے والی اس ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا، فلسطین، افغانستان اور اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں اصلاحات سمیت وسیع تر علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستانی ثالثی اور علاقائی امن کا اعتراف
ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپریل میں پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے "اسلام آباد مذاکرات" کی کامیابی کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ پاکستان کی کوششوں سے قائم ہونے والی جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔ یو این چیف نے علاقائی امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور ثالثی کے کردار کو سراہا۔
وزیرِ خارجہ نے اقوامِ متحدہ کی اصلاحات کے حوالے سے سیکرٹری جنرل کے "UN80 اقدام" کا خیرمقدم کیا، تاہم انہوں نے زور دیا کہ ان اصلاحات میں ترقی پذیر ممالک کے مفادات کو اولیت ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات خودمختار برابری، شفافیت اور منتخب اراکین کی شمولیت پر مبنی ہونی چاہئیں۔
بھارت، افغانستان اور فلسطین پر پاکستان کا مؤقف
اسحاق ڈار نے بھارتی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے بھارتی فیصلے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا اور واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کا یو این قراردادوں کے مطابق حل ہی جنوبی ایشیا میں مستقل امن کی ضمانت ہے۔ افغانستان کے حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ پاکستانی سلامتی کے خلاف افغان سرزمین کا استعمال روکنا ناگزیر ہے۔ مزید برآں، انہوں نے مسئلہ فلسطین پر دو ریاستی حل اور غزہ امن پلان پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔
نیویارک دورے کے دوران اسحاق ڈار نے بحرین، کیوبا اور چیک جمہوریہ کے وزرائے خارجہ سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں جن میں باہمی تجارت اور تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

Comments
Post a Comment