جنوبی کوریا کی خارجہ پالیسی میں بڑا یوٹرن؛ شمالی کوریا کے ساتھ 'پُرامن بقائے باہمی' کی نئی حکمتِ عملی تیار


جنوبی کوریا کی حکومت نے اپنے پڑوسی ملک شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے "دباؤ اور تصادم" کی پرانی پالیسی کو ترک کرتے ہوئے "پُرامن بقائے باہمی" کو اپنی نئی ترجیح قرار دے دیا ہے۔ یہ اہم انکشاف جنوبی کوریا کی وزارتِ یونیفکیشن (وزارتِ اتحاد) کی جانب سے جاری کردہ ایک سالانہ وائٹ پیپر میں کیا گیا ہے۔

نئی حکومت اور بدلتا ہوا رخ

جنوبی کوریا کی کورین نیوز ایجنسی 'یونہاپ' کے مطابق، یہ نیا وائٹ پیپر موجودہ صدر لی جے میونگ کی انتظامیہ کی نئی سوچ کا عکاس ہے، جنہوں نے گزشتہ سال جون میں اقتدار سنبھالا تھا۔ یہ پالیسی سابقہ قدامت پسند حکومت کے بالکل برعکس ہے جس کے سربراہ صدر یون سک یول تھے۔ سابقہ حکومت شمالی کوریا پر شدید سفارتی و معاشی دباؤ ڈالنے اور بیرونی معلومات کی ترسیل کے ذریعے وہاں تبدیلی لانے کی حامی تھی، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے۔

نئے وائٹ پیپر میں تین اہم رہنما اصولوں کا ذکر کیا گیا ہے، جن کے مطابق جنوبی کوریا اب شمالی کوریا کے موجودہ سیاسی نظام کا احترام کرے گا، شمالی کوریا کو اپنے اندر ضم کر کے یکطرفہ الحاق کی کوشش نہیں کرے گا، اور کسی بھی قسم کی دشمنانہ سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے گا۔

کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ صدر لی جے میونگ کی حکومت نے باہمی اعتماد کی بحالی کے لیے سرحدی علاقوں پر شمالی کوریا کے خلاف پمفلٹ بھیجنے اور لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے کی جانے والی پروپیگنڈا نشریات کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد سرحد پر فوجی تناؤ کو کم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ، جنوبی کوریا کی حکومت 19 ستمبر 2018 کو سابق صدر مون جے ان اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اون کے درمیان ہونے والے تاریخی فوجی معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حکومت کا مقصد ایک ایسے دوطرفہ معاہدے پر دستخط کرنا ہے جو مستقل بنیادوں پر پُرامن بقائے باہمی کی راہ ہموار کر سکے۔

موجودہ چیلنجز اور جمی ہوئی برف

واضح رہے کہ دونوں روایتی حریفوں کے درمیان گزشتہ پانچ برسوں سے ہر قسم کے سفارتی، عوامی اور معاشی روابط مکمل طور پر منجمد ہیں۔ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی تھی جب رواں ماہ کے آغاز میں شمالی کوریا نے اپنے آئین میں ترمیم کر کے جنوبی کوریا کے ساتھ دوبارہ اتحاد (Unification) کے تمام حوالہ جات کو خارج کر دیا تھا اور بقیہ تعلقات بھی ختم کر لیے تھے۔ ایسے میں جنوبی کوریا کی یہ نئی امن پسندی کتنی کامیاب ہوتی ہے، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔

رپورٹ: ایڈیٹر ڈیلی حلیف


⬇️ Click to Read this Article in English

South Korea Shifts Policy Toward "Peaceful Coexistence" With North Korea


The South Korean government under President Lee Jae Myung has shifted its core focus toward “peaceful coexistence” with North Korea, moving away from the previous policy of "pressure and confrontation," according to an annual white paper released by the Unification Ministry.

A Shift in Strategy

The new policy marks a sharp departure from the conservative administration of former President Yoon Suk Yeol, which sought to induce changes in Pyongyang through maximum pressure. The newly elected Lee administration, which took office in June last year, aims to repair the deeply strained inter-Korean relationship by building mutual trust. Citing three key guiding principles, the paper states that Seoul respects North Korea's system, does not pursue unification by absorption, and will not engage in hostile activities.

Steps to Build Mutual Trust

As practical steps toward easing military tensions along the heavily fortified border, the South Korean government has halted the dispatch of anti-Pyongyang leaflets and stopped loudspeaker broadcasts. Furthermore, the administration outlines plans to revive the inter-Korean military agreement signed on September 19, 2018, by then-President Moon Jae-in and North Korean leader Kim Jong-un, seeking a systematic foundation for long-term peace.

Current Status of Ties

Inter-Korean relations currently remain completely frozen, with no personal or economic exchanges taking place for the last five years. The diplomatic challenge is amplified by North Korea's recent constitutional amendments earlier this month, which completely removed all historical references to unification and formally severed remaining ties with South Korea.

Global analysts are closely watching whether Seoul's new diplomatic approach can break the multi-year deadlock on the Korean Peninsula.

Comments