امریکہ کی لبنانی حکام اور ایرانی سفیر پر پابندیاں' تہران کی شدید مذمت

ایران کی وزارتِ خارجہ نے بیروت میں تعینات اپنے سفیر، لبنانی حکام اور شہریوں پر عائد حالیہ امریکی پابندیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ تہران کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق، واشنگٹن کی طرف سے حزب اللہ اور امل موومنٹ کے نمائندوں سمیت ایرانی سفیر کو نشانہ بنانا لبنان میں خانہ جنگی اور فتنہ انگیزی پھیلانے کی کھلی سازش ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ نے گزشتہ روز حزب اللہ سے تعلق کے الزام میں نو افراد پر سفارتی و معاشی پابندیاں عائد کی تھیں۔

پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی پیش رفت

اس نئی سفارتی کشیدگی کے دوران، پاکستان کے وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی تہران میں موجود ہیں جہاں انہوں نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی ہے۔ پاکستانی وزیرِ داخلہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے خاتمے اور ایک متفقہ فریم ورک کی تیاری کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی مذاکرات میں کچھ "مثبت علامات" کا اعتراف کیا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر تہران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر ٹیکس یا ٹول سسٹم نافذ کرنے کی کوشش کی تو کوئی بھی امن معاہدہ ممکن نہیں رہے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایران کو سخت وارننگ دی ہے کہ امریکہ کسی بھی صورت ایران کے پاس یورینیم کا ذخیرہ نہیں رہنے دے گا اور اسے اپنے قبضے میں لے کر تباہ کر دے گا۔ دوسری جانب، ایرانی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح ہدایات جاری کر دی ہیں کہ افزودہ یورینیم کا ایک گرام بھی ملک سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر ٹیکس لگانے کے ایرانی منصوبے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے جسے ہر حال میں فری اور کھلا ہونا چاہیے۔

عالمی معیشت پر بدترین اثرات اور انرجی بحران

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اس تنازع نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) نے وارننگ دی ہے کہ یہ بحران تاریخ کا سب سے بڑا "انرجی شاک" بن چکا ہے اور جولائی و اگست کے مہینوں میں عالمی مارکیٹ شدید ترین بحران یعنی "ریڈ زون" میں داخل ہو سکتی ہے۔ جنگ سے قبل آبنائے ہرمز سے روزانہ 125 سے 140 بحری جہاز گزرتے تھے، جو اب محض نام کے رہ گئے ہیں۔ امن مذاکرات میں غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور امریکی ڈالر چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

اگرچہ پاکستان کی مخلصانہ ثالثی سے دونوں فریقین کے درمیان کچھ اختلافات کم ہوئے ہیں، لیکن یورینیم کی منتقلی اور آبنائے ہرمز کا کنٹرول اب بھی وہ بنیادی نکات ہیں جن پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Iran Condemns US Sanctions on Its Lebanese Ambassador and Officials


Iran's Ministry of Foreign Affairs has strongly condemned the United States' decision to impose sanctions on the Iranian Ambassador to Lebanon, alongside several Lebanese officials and citizens. Tehran labeled the move as an explicit incitement to sedition in Lebanon. The US Treasury had targeted nine individuals linked to Hezbollah, accusing them of obstructing the Middle East peace process.

Pakistan Continues Diplomatic Mediation

Amidst escalating diplomatic tensions, Pakistani Interior Minister Syed Mohsin Naqvi held another crucial round of talks with Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi in Tehran to develop a framework for ending the conflict. US Secretary of State Marco Rubio noted "some good signs" in the ongoing negotiations but reiterated that any attempt by Tehran to enforce a tolling system in the strategic Strait of Hormuz would render a diplomatic deal unfeasible.

US President Donald Trump stated that the United States would eventually seize and destroy Iran's enriched uranium stockpile to prevent the development of a nuclear weapon. However, senior Iranian sources revealed that Supreme Leader Ayatollah Mojtaba Khamenei has issued a strict directive prohibiting any transfer of the country's uranium stockpile abroad. Trump also criticized Iran's maritime intentions, demanding that the international waterway remain entirely free of tolls.

Global Energy Crisis and Market Uncertainty

The International Energy Agency (IEA) warned that the conflict has induced the world's worst energy shock, predicting that the market could enter a dangerous "red zone" by July and August due to peak summer demand. Maritime traffic through the Strait of Hormuz has plummeted to a mere trickle compared to pre-war levels. Consequently, the US dollar remained near a six-week high, and oil prices continued to climb as investors expressed skepticism over an immediate diplomatic breakthrough.

While Pakistani mediation has narrowed some gaps, uranium enrichment and regional shipping controls remain the primary sticking points blocking a final resolution.

Comments