بالی ووڈ کے مروجہ ایکشن ہیرو ٹائیگر شروف کی حالیہ فلموں کی باکس آفس پر مسلسل ناکامیوں کے بعد، ان کے والد اور انڈسٹری کے سینئر اداکار جیکی شروف نے خاموشی توڑ دی ہے۔ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، جیکی شروف نے بیٹے کی گرتی ہوئی فلمی پوزیشن اور شوبز انڈسٹری کے کڑے رویوں پر کھل کر بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلمی دنیا میں ہر فنکار کو اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور کامیابی یا ناکامی کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتی۔
کامیابی اور ناکامی ناظرین کے ہاتھ میں ہے
جیکی شروف نے اپنے حالیہ انٹرویو میں فلسفیانہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ انسان کا کام صرف اور صرف ایمانداری سے محنت کرنا ہے، باقی تمام نتائج اور فیصلے ناظرین کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ انہوں نے ٹائیگر شروف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں، فٹنس اور ایکشن کے معاملے میں انتہائی مخلص ہیں اور ناکامیوں کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیتے۔ جیکی کے مطابق، بعض اوقات سو فیصد محنت کے باوجود فلمیں نہیں چلتیں، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان کوشش کرنا چھوڑ دے۔
ٹائیگر شروف نے 2014 میں فلم 'ہیروپنتی' سے اپنے کیریئر کا شاندار آغاز کیا تھا، جس کے بعد 'باغی' اور 'وار' جیسی فلموں نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا۔ تاہم، حالیہ برسوں میں ان کی پے در پے کئی بڑی فلمیں باکس آفس پر بری طرح فلاپ ہوئیں، جس نے ناقدین کو ان کے کیریئر پر سوال اٹھانے کا موقع دیا۔
ٹائیگر شروف کا اپنا مؤقف اور مستقبل کے پروجیکٹس
دوسری جانب خود ٹائیگر شروف بھی ان حالات سے مایوس نہیں ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مشکلات اور رکاوٹیں انسان کو اندر سے مضبوط بناتی ہیں اور خود احتسابی کا موقع دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سب کچھ آسانی سے مل جائے تو انسان اپنی حدود سے آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ شوبز حلقوں کو امید ہے کہ کرن جوہر کے پروڈکشن بینر تلے بننے والی ان کی آئندہ فلم 'لگ جا گلے' باکس آفس پر ان کی شاندار واپسی کا سبب بنے گی۔
جیکی شروف کا یہ بیان نہ صرف ایک والد کی طرف سے اپنے بیٹے کی پُرعزم حمایت ہے بلکہ شوبز انڈسٹری کے نوجوان اداکاروں کے لیے حوصلہ افزائی کا ایک بہترین پیغام بھی ہے۔

Comments
Post a Comment