برطانیہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجیوں، شہریوں اور علاقائی شراکت داروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک نیا اور انتہائی کم لاگت والا اینٹی ڈرون میزائل سسٹم تعینات کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں کا مؤثر اور سستا حل تلاش کرنا ہے۔
ٹائیفون طیاروں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت
برطانوی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، اس نئے ایڈوانسڈ پریسیشن کل ویپن سسٹم (APKWS) کو مشرقِ وسطیٰ میں آپریشنز کرنے والے رائل ایئر فورس (RAF) کے ٹائیفون فائٹر جیٹس کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔ اس نئے سسٹم کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ پہلے سے زیرِ استعمال مہنگے میزائلوں کے مقابلے میں انتہائی معمولی قیمت پر دشمن کے ڈرونز اور دیگر فضائی خطرات کو فضا ہی میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ رائل ایئر فورس کے 9 اسکواڈرن ٹائیفون جنگی طیاروں نے اس نئے دفاعی نظام کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کے فضائی مشنز میں پروازیں شروع کر دی ہیں تاکہ برطانوی مفادات اور اس کے اتحادیوں کا دفاع کیا جا سکے۔
کم لاگت اور پائیدار فضائی دفاع
برطانوی وزیر برائے دفاعی تیاری و صنعت، لوک پولارڈ نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی صنعت کے ساتھ مل کر محض چند مہینوں کے اندر اس نظام کا کامیاب تجربہ اور اس کی عملی تعیناتی ایک شاندار کامیابی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا ٹائیفون بیڑا برطانیہ اور نیٹو کے فضائی دفاع کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہ طیارے جہاں یورپ کے مشرقی حصے کو روسی ڈرون حملوں سے بچا رہے ہیں، وہاں مشرقِ وسطیٰ میں بھی ہمارے شراکت داروں کا دفاع کر رہے ہیں۔
یہ جدید سسٹم لیزر گائیڈڈ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتا ہے، جو غیر گائیڈڈ یعنی عام میزائلوں کو بھی انتہائی درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں میں تبدیل کر دیتا ہے۔ وزارتِ دفاع کا ماننا ہے کہ جدید جنگوں میں ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے سامنے یہ کم لاگت فضائی دفاعی نظام طویل مدت کے لیے ایک پائیدار اور مضبوط جواب ثابت ہوگا۔
مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ حالات میں برطانیہ کی یہ نئی جنگی حکمتِ عملی خطے کے دفاعی توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

Comments
Post a Comment