عالمی سائبر حملے نے تعلیمی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا؛ امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کی ہزاروں جامعات میں امتحانات معطل


تعلیمی سال کے اختتام اور امتحانات کے اہم ترین سیزن میں ایک بڑے عالمی سائبر حملے نے امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت دنیا بھر کی ہزاروں یونیورسٹیوں اور اسکولوں میں نظامِ تعلیم کو درہم برہم کر دیا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں دنیا بھر میں استعمال ہونے والا مشہور تعلیمی سافٹ ویئر 'کینوس' آف لائن ہو گیا، جس سے طلبہ اور اساتذہ کا رابطہ منقطع ہو گیا۔

حملے کے پیچھے کون ہے؟

رپورٹس کے مطابق، بدنامِ زمانہ ہیکنگ گروپ ' نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ کینوس کی مالک کمپنی 'انسٹکچر'  کا کہنا ہے کہ وہ سسٹم کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں، تاہم تاحال ہزاروں اداروں میں رسائی بحال نہیں ہو سکی۔ شکاگو یونیورسٹی کے ایک مقامی اخبار نے ہیکرز کے پیغام کا اسکرین شاٹ بھی جاری کیا ہے جس میں ہیکرز نے ڈیٹا ریلیز نہ کرنے کے عوض تاوان  کا مطالبہ کیا ہے۔

تعلیمی اداروں پر اثرات

:اس سائبر حملے نے تقریباً 9000 تعلیمی اداروں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے

یونیورسٹی آف سڈنی: انتظامیہ نے طلبہ کو لاگ ان نہ کرنے کی ہدایت کی ہے اور تسلیم کیا ہے کہ سمسٹر کے اس نازک موڑ پر یہ تعطل انتہائی نقصان دہ ہے۔

پین اسٹیٹ یونیورسٹی: یونیورسٹی نے اعلان کیا کہ کسی کو بھی کینوس تک رسائی حاصل نہیں ہے، جس کی وجہ سے جمعرات اور جمعہ کو ہونے والے امتحانات منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا: کینیڈا کی اس بڑی یونیورسٹی نے اسے 'سائبر بریچ' قرار دیتے ہوئے طلبہ کو فوری لاگ آؤٹ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ٹورنٹو اور شکاگو یونیورسٹیاں: ان سمیت کئی دیگر بڑے اداروں نے بھی ڈیٹا چوری ہونے کے خدشے کے پیشِ نظر اپنے سسٹم عارضی طور پر بند کر دیے ہیں۔

سیاسی ردِعمل اور سیکیورٹی خدشات

سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیکرز نے ڈیڈ لائن دے رکھی ہے اور تاوان کی ادائیگی کے لیے مذاکرات جاری ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب، اس حملے نے سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ امریکی سینیٹ کے ٹاپ ڈیموکریٹ چک شومر نے ٹرمپ انتظامیہ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے اس دور میں سائبر دفاع کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ امریکی عوام کی زندگیوں اور روزگار کو ان حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔


تحریر: ایڈیٹر ڈیلی حلیف

Comments