ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو سخت ترین دھمکی؛ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی معاہدہ خطرے میں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں تعطل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تہران کو سنگین نتائج کی دھمکی دے دی ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایران کے لیے وقت تیزی سے نکل رہا ہے اور انہیں جلد فیصلہ کرنا ہوگا، ورنہ ان کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ اب بھی تہران کی جانب سے ایک نئی اور بہتر تجویز کے منتظر ہیں، تاہم انہوں نے مذاکرات کے لیے کوئی حتمی ڈیڈ لائن نہیں دی ہے۔

ایران کا ترکی بہ ترکی جواب اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی

امریکی دھمکیوں کے جواب میں ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکہ اور اسرائیل پر عالمی توانائی منڈیوں کے تحفظ کے نام پر "من گھڑت بحران" پیدا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایرانی عسکری قیادت نے بھی واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئی سٹرٹیجک غلطی یا جارحیت کی صورت میں امریکہ کو پہلے سے کہیں زیادہ کاری اور شدید ضرب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس دوران ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے ایک انتہائی اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اب دشمن ممالک کے کسی بھی فوجی سازوسامان کو آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے گزرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ایران کے اس سخت موقف کے بعد اس اہم ترین بحری تجارتی گزرگاہ پر کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ دوسری جانب روس نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے چین کی مستقل جنگ بندی کی تجویز کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ابوظہبی جوہری پلانٹ پر ڈرون حملہ اور روس کی وارننگ

مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں اس وقت ایک نیا موڑ آیا جب متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں واقع براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے باہر ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ حکام کے مطابق اس حملے سے پلانٹ کے اہم ترین سسٹمز محفوظ رہے اور تابکاری کے پھیلاؤ کا کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوا۔ اس تشویشناک صورتحال پر روسی سفیر میخائل اولیانوف نے خبردار کیا ہے کہ مغربی ماہرین کے مطابق امریکہ اور اسرائیل آنے والے چند گھنٹوں میں ایران پر دوبارہ فضائی حملے کر سکتے ہیں، جو ان کی ایک اور بڑی سٹرٹیجک غلطی ہوگی۔

غزہ میں حماس کے عسکری چیف کی شہادت اور ایران کا ردِعمل

دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی فضائیہ نے جنگ بندی کی ایک اور سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے چیف عزالدین الحداد کو ان کی اہلیہ اور بیٹی سمیت شہید کر دیا ہے۔ ایران نے اس بزدلانہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے امریکہ کو اسرائیل کے ان تمام جرائم کا برابر کا شراکت دار قرار دیا ہے۔ ادھر تہران نے چین کے ساتھ اپنے سٹرٹیجک تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو چین کے امور کے لیے اپنا خصوصی ایلچی مقرر کر دیا ہے تاکہ جنگ کی وجہ سے تباہ حال معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود بڑھتی ہوئی فوجی نقل و حرکت اور سفارتی تلخی نے پورے خطے کو ایک بار پھر بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔


⬇️ Click to Read this Article in English

'The Clock is Ticking': Trump Warns Iran as Ceasefire Talks Stall


US President Donald Trump has issued a severe warning to Iran, stating on Truth Social that "the clock is ticking" and Iranian leaders need to move fast to avoid devastating consequences. While Trump reportedly still believes Iran wants a diplomatic deal, he is awaiting an updated and improved proposal from Tehran as negotiations remain stalled.

Iran Responds with Force and Strait of Hormuz Blockade

Iran's Foreign Ministry strongly rejected the US rhetoric, accusing Washington and Israel of manufacturing crises under the guise of stabilizing energy markets. Furthermore, Iran's military warned the US against any strategic miscalculations, promising a decisive and crushing blow to any renewed aggression. In a major policy shift, Iran's First Vice President Mohammad Reza Aref announced that Tehran will no longer allow "enemy" military equipment to pass through the strategic Strait of Hormuz.

Drone Attack in Abu Dhabi and Russia's Warning

Adding to regional anxieties, a drone strike caused a fire near the outer perimeter of the Barakah Nuclear Power Plant in Abu Dhabi. While UAE authorities confirmed that essential systems and radiological safety levels remain unaffected, the incident highlights heightened regional vulnerabilities. Concurrently, Russia's envoy warned that the US and Israel might resume military strikes on Iran within hours, a move Moscow criticized as a repeating strategic mistake.

Assassination of Hamas Military Chief in Gaza

In another serious breach of the ongoing truce, an Israeli airstrike in Gaza killed the chief of Hamas's Qassam Brigades, Izz al-Din al-Haddad, along with his wife and daughter. Iran vehemently condemned the assassination, blaming the United States for its continued political and military complicity in Israeli actions. Amidst the ongoing economic and political turmoil, Tehran has appointed Parliament Speaker Mohammad Bagher Ghalibaf as a high-powered special envoy to China to consolidate economic ties.

The convergence of military strikes, economic blockades, and high-stakes diplomatic threats indicates that the fragile truce in the Middle East is facing its most critical test yet.

Comments