دنیا بھر کو جنگ کے مہیب سائے سے نکالنے کے لیے ایک بہت بڑی اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک جامع اور طویل المدتی امن معاہدے کے بڑے حصے پر اتفاق ہو چکا ہے، جس کا باضابطہ اعلان بہت جلد کر دیا جائے گا۔ ہفتوں کی شدید کشیدگی اور سفارتی ڈیڈ لاک کے بعد اس پیش رفت کو عالمی امن کے لیے ایک اہم ترین سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) May 23, 2026
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اہم بیان
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ دونوں ممالک کے وفود نے پسِ پردہ مذاکرات کے بعد ایک ایسے فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے جو دونوں فریقین کے لیے قابلِ قبول ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا، "ہم نے ایران کے ساتھ ایک بہت بڑے اور جامع معاہدے پر بڑی حد تک مذاکرات مکمل کر لیے ہیں۔ یہ ایک ایسا معاہدہ ہے جو نہ صرف امریکہ اور ہمارے اتحادیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا بلکہ خطے میں پائیدار امن کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ اس کا اعلان بہت جلد متوقع ہے۔"
ذرائع کے مطابق، اس تاریخی معاہدے کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام پر سخت بین الاقوامی پابندیاں قبول کرنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر آمادہ ہوا ہے، جبکہ اس کے بدلے میں امریکہ ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں بتدریج نرمی کرے گا اور منجمد کیے گئے اثاثے بحال کیے جائیں گے۔
پاکستانی سفارت کاری کی بڑی کامیابی
عالمی امور کے ماہرین اس اہم پیش رفت کو پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی اور انتھک سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان بنیادی ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے اسلام آباد اور تہران میں مذاکرات کے کئی دور منعقد کروائے۔ پاکستانی سفارت کاروں نے تہران اور واشنگٹن کے سخت مطالبات کے درمیان پل کا کام کیا، جس کی بدولت ایک ایسے وقت میں جنگ بندی ممکن ہوسکی جب مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے۔
عالمی معیشت اور مارکیٹوں پر مثبت اثرات
اس تاریخی معاہدے کی خبریں عام ہوتے ہی عالمی منڈیوں میں ایک مثبت لہر دوڑ گئی ہے۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشے کے باعث خام تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں، تاہم اس اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی نقل و حمل مکمل طور پر بحال ہو جائے گی، جس سے عالمی مہنگائی کے دباؤ میں کمی آئے گی اور پاکستان سمیت تمام ترقی پذیر ممالک کی معیشت کو بڑا ریلیف ملے گا۔
مختصر یہ کہ امریکہ اور ایران کا یہ متوقع معاہدہ اکیسویں صدی کی سفارت کاری کی ایک عظیم مثال بننے جا رہا ہے، جس نے دنیا کو ایک ہولناک جنگ سے بچا لیا ہے۔

Comments
Post a Comment