سعودی عرب میں دنیا کے سب سے بڑے سالانہ مذہبی اجتماعات میں سے ایک، یعنی حج کے مناسک کامیابی اور حفاظت کے ساتھ مکمل ہو گئے ہیں، جس کے بعد لاکھوں عازمینِ حج نے مکہ مکرمہ سے اپنے وطن واپسی کا سفر شروع کر دیا ہے۔ رواں سال شدید گرمی اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ سیاسی صورتحال کے سائے میں 165 ممالک سے تعلق رکھنے والے 17 لاکھ سے زائد مسلمانوں نے فریضہ حج ادا کیا۔ عازمین نے وادیٔ منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے (رمی) کا آخری مرحلہ مکمل کرنے کے بعد مسجد الحرام کا رخ کیا۔
طوافِ وداع اور الوداعی لمحات
منیٰ میں رمی کا سہ روزہ عمل مکمل کرنے کے بعد عازمینِ حج بسوں کے ذریعے مکہ مکرمہ پہنچے جہاں انہوں نے بیت اللہ کا الوداعی طواف (طوافِ وداع) ادا کیا۔ یہ حج کا آخری رکن ہوتا ہے جس کے بعد غیر ملکی حجاج اپنے ممالک کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔ مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت لاکھوں آنکھیں اشکبار تھیں اور حجاج نے مناسکِ حج کی بحفاظت اور پرامن تکمیل پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ افریقی اور ایشیائی ممالک سے آئے حجاج کا کہنا تھا کہ زندگی کے اس سب سے بڑے خواب کی تکمیل نے ان کی تمام تر جسمانی تھکن کو دور کر دیا ہے۔
سعودی حکام کی جانب سے عازمین کے آرام و سلیقے کے لیے وسیع انتظامات کیے گئے تھے۔ شدید گرمی اور تپش کے پیشِ نظر طبی ماہرین اور رضاکار مسلسل حجاج کو پانی اور چھتریاں تقسیم کرتے رہے تاکہ ہیٹ اسٹروک سے بچا جا سکے۔
جغرافیائی سیاسی تناؤ اور امن کی دعائیں
رواں سال کا حج ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا جب خطے میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان شدید جیو پولیٹیکل تناؤ پایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے اور مکہ مکرمہ کے بیرونی راستوں پر فضائی دفاعی بیٹریاں بھی نصب کی گئی تھیں تاکہ کسی بھی فضائی خطرے کا سدِباب کیا جا سکے۔ میدانِ عرفات اور مزدلفہ میں دنیا بھر سے آئے مسلمانوں نے امتِ مسلمہ کے اتحاد، بھائی چارے اور خاص طور پر خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے خصوصی دعائیں مانگیں۔
تمام تر علاقائی چیلنجز اور سخت موسم کے باوجود، سعودی حکومت کی بہترین حکمتِ عملی اور سیکیورٹی فورسز کی مستعدی کے باعث حج کا یہ عظیم الشان اجتماع مکمل طور پر پرامن اور حادثات سے پاک رہا۔

Comments
Post a Comment