تہران/واشنگٹن: ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے ساتھ جاری تنازع کے حل میں "امریکی مطالبات اور اشتعال انگیز بیان بازی" کو سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے دیا ہے۔ ناروے کے نائب وزیرِ خارجہ سے تہران میں ملاقات کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن کے پاس خلوص کی کمی ہے، جو جنگ کے خاتمے اور کسی ممکنہ معاہدے کی راہ میں دیوار بنی ہوئی ہے۔
تنگہ ہرمز پر نیا قانونی اختیار
ملاقات کے دوران عباس عراقچی نے ایک اہم اسٹریٹجک اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایران "تنگہ ہرمز" (Strait of Hormuz) کے لیے بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں نئے ضوابط تیار کر رہا ہے۔ ایران کا یہ اقدام اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنے قانونی کنٹرول کو مستقل بنیادوں پر مستحکم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے عالمی تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
کویت کے ساتھ سمندری تنازع اور سعودی مذمت
دوسری جانب، ایران اور کویت کے درمیان بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ کویت نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے اہلکاروں کو اپنی حدود میں داخل ہونے پر حراست میں لیا ہے، جسے ایران نے "تکنیکی خرابی" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ تاہم، سعودی عرب نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کویت کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔
ٹرمپ کا دورہِ چین اور دو ٹوک موقف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو اس وقت چین کے دورے پر ہیں، نے بیجنگ روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں واضح کیا کہ انہیں ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے صدر شی جن پنگ کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم ایران کے خلاف یہ جنگ جیت لیں گے، چاہے پرامن طریقے سے ہو یا کسی اور طرح۔" ٹرمپ نے ایرانی مطالبات، جن میں جنگی نقصانات کا ازالہ اور ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے، کو "کچرا" قرار دے کر مسترد کر دیا۔
جنگ کی بڑھتی ہوئی قیمت اور امریکی معیشت
امریکہ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں کے باوجود صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی عوام کی مالی مشکلات ان کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "میرا واحد مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے روکنا ہے، چاہے اس کی کوئی بھی قیمت چکانی پڑے۔"
اعداد و شمار کے مطابق:
- امریکہ کے لیے اس جنگ کی لاگت اب تک 29 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے۔
- عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 107 ڈالرز فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔
- امریکی بحری بیڑے 'ابراہیم لنکن' نے اب تک 65 تجارتی جہازوں کا راستہ روکا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ کا یہ سخت موقف ان کے لیے سیاسی خطرہ بھی بن سکتا ہے، کیونکہ حالیہ سروے کے مطابق دو تہائی امریکی شہری اس جنگ کی وجوہات سے مطمئن نہیں ہیں۔
تحریر: ایڈیٹر ڈیلی حلیف

Comments
Post a Comment