تحریک انصاف کی قیادت پر عمران خان کے خاندان کا عدم اعتماد: اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی کال اور سنگین الزامات

Imran Khan's sisters Aleema Khanum and Noreen Khan expressing dissatisfaction with PTI leadership and calling for protest outside Adiala Jail.

 اسلام آباد: اڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے خاندان اور پارٹی قیادت کے درمیان اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ عمران خان کی بہنوں نے پارٹی کے سینیئر رہنماؤں اور اراکینِ پارلیمنٹ کی کارکردگی پر سخت عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے نیا مطالبہ کر دیا ہے۔

عمران خان کی بہن علیمہ خانم نے تحریک انصاف کے تمام قومی و صوبائی اراکینِ اسمبلی، سینیٹرز اور سینیئر رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ آج بروز منگل اڈیالہ جیل کے باہر جمع ہوں۔ اس اقدام کا مقصد انتظامیہ کو مجبور کرنا ہے کہ وہ عمران خان تک خاندان اور ڈاکٹروں کی رسائی ممکن بنائے اور انہیں علاج کی بہتر سہولیات فراہم کی جائیں۔

علیمہ خانم نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر نجی اسپتال منتقل کیا جائے جہاں ان کے ذاتی معالج اور خاندان کی موجودگی میں ان کا علاج ہو سکے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھا جا رہا ہے جو کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ خاندان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر فوری سماعت کی جائے۔

 دوسری جانب عمران خان کی ایک اور بہن نورین خان نے پارٹی کے اراکینِ اسمبلی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ آج اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں، وہ عمران خان کے ووٹوں کی بدولت وہاں پہنچے ہیں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر اپنے لیڈر کے لیے موثر آواز اٹھائیں، جو کام وہ ایوان کے اندر کر سکتے ہیں وہ ہم باہر سے نہیں کر سکتے۔

 تحریک تحفظِ پاکستان کے ترجمان کے مطابق، عمران خان کی بہنوں نے حالیہ ملاقاتوں میں پی ٹی آئی کے کردار پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان نے یہ انکشاف بھی کیا کہ کافی عرصے کے بعد حکومت کے ساتھ پس پردہ رابطے دوبارہ بحال ہوئے ہیں، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

 عمران خان کی بہنوں کی جانب سے دی گئی اس احتجاجی کال پر جب تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان شیخ وقاص اکرم اور چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کی جانب سے تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

Comments