وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ؛ امریکی خفیہ ایجنسی کی جوابی کارروائی میں مسلح حملہ آور ہلاک، صدر ٹرمپ محفوظ
امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں صدارتی محل 'وائٹ ہاؤس' کے باہر فائرنگ کا ایک سنسنی خیز واقعہ پیش آیا ہے۔ سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر تعینات امریکی سیکریٹ سروس (خفیہ ایجنسی) کے اہلکاروں پر ایک مسلح شخص نے اچانک فائرنگ کر دی، جس پر اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ اس فائرنگ کے تبادلے میں ایک راہگیر بھی زخمی ہوا ہے۔
واقعہ کی تفصیلات اور وائٹ ہاؤس کا لاک ڈاؤن
حکام کے مطابق یہ واقعہ وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے بالکل باہر 17ویں اسٹریٹ اور پنسلوانیا ایونیو کے چوراہے پر پیش آیا۔ سیکریٹ سروس کے ترجمان نے بتایا کہ ایک 21 سالہ نوجوان نے سیکیورٹی بوتھ کے قریب پہنچ کر اپنے بیگ سے ریوالور نکالا اور سیکیورٹی اہلکاروں پر اندھا دھند گولیاں چلانا شروع کر دیں۔ وہاں موجود صحافیوں اور عینی شاہدین کے مطابق 15 سے 30 کے قریب گولیوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد وائٹ ہاؤس کو فوری طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا اور وہاں موجود میڈیا کے نمائندوں کو پریس بریفنگ روم کے اندر پناہ لینے کی ہدایت کی گئی۔
خوش قسمتی سے جوابی فائرنگ کے دوران کوئی بھی سیکریٹ سروس کا اہلکار زخمی نہیں ہوا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واقعے کے وقت وائٹ ہاؤس کے اندر ہی موجود تھے، تاہم حکام نے تصدیق کی ہے کہ وہ مکمل طور پر محفوظ رہے اور ان پر اس واقعے کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ صدر ٹرمپ نے بعد میں سوشل میڈیا پر سیکیورٹی فورسز کی فوری اور پیشہ ورانہ کارروائی کو سراہا۔
حملہ آور کی شناخت اور ذہنی حالت
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہلاک ہونے والے مشکوک شخص کی شناخت 21 سالہ 'نصیر بیسٹ' (Nasire Best) کے نام سے کی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق، مذکورہ نوجوان پہلے ہی سیکریٹ سروس اور واشنگٹن پولیس کو مطلوب تھا۔ ریکارڈ سے معلوم ہوا ہے کہ جولائی 2025 میں بھی اس نے وائٹ ہاؤس کے ایک دوسرے گیٹ سے زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی تھی جس پر اسے گرفتار کر کے ذہنی صحت کے مسائل کے باعث نفسیاتی وارڈ بھیج دیا گیا تھا اور اسے وائٹ ہاؤس سے دور رہنے کے عدالتی احکامات جاری کیے گئے تھے۔
زخمی راہگیر کی صورتحال اور تفتیش
فائرنگ کے اس تبادلے کے دوران وہاں سے گزرنے والا ایک عام شہری بھی گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا ہے، جسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ سیکریٹ سروس کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ راہگیر کو حملہ آور کی گولی لگی یا وہ اہلکاروں کی جوابی فائرنگ کی زد میں آیا۔ امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارہ (FBI) اور مقامی پولیس اس ہائی پروفائل سیکیورٹی خلاف ورزی کے واقعے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ارد گرد سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے اور لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد صورتحال اب مکمل کنٹرول میں ہے۔

Comments
Post a Comment