ٹرمپ کا دورہِ چین؛ ایک دہائی بعد بدلتی ہوئی عالمی طاقت اور 'سائبر پنک' چین کا سامنا


بیجنگ:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ہفتے جب بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے، تو انہیں 2017 کے اس پرشکوہ دورے کی یاد دلائی جائے گی جہاں 'ممنوعہ شہر' (Forbidden City) کے اندر ان کا شاہانہ استقبال کیا گیا تھا۔ تاہم، ایک دہائی بعد جب ٹرمپ دوبارہ چین پہنچ رہے ہیں، تو وہ ایک ایسے ملک کا سامنا کریں گے جو اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط، پراعتماد اور جارحانہ عزائم رکھتا ہے۔

بدلتا ہوا چین اور شی جن پنگ کا وژن گزشتہ دس سالوں میں چین نے اپنی معیشت اور ٹیکنالوجی کا رخ مکمل طور پر موڑ دیا ہے۔ صدر شی جن پنگ، جو اب اپنی تیسری مدتِ اقتدار میں ہیں، چین کو "نئی پیداواری قوتوں" (New Productive Forces) کی جانب لے جا رہے ہیں۔ اس وقت بیجنگ کی ترجیحات میں مصنوعی ذہانت (AI)، روبوٹکس اور قابلِ تجدید توانائی (Renewable Energy) سرفہرست ہیں۔

اگر امریکی صدر اس نئے چین کی جھلک دیکھنا چاہتے ہیں، تو انہیں بیجنگ کے سرکاری دفاتر سے باہر نکل کر 'چونگ چنگ' (Chongqing) جیسے شہروں کو دیکھنا ہوگا۔ پہاڑوں کو تراش کر بنایا گیا یہ شہر اب دنیا کا 'سائبر پنک دارالحکومت' کہلاتا ہے، جہاں بلند و بالا عمارتیں، ہوا میں تیرتی ٹرینیں اور جدید ترین ٹیکنالوجی چین کے مستقبل کا نقشہ پیش کرتی ہیں۔

'امریکہ فرسٹ' بمقابلہ چین کی طویل المدتی حکمت عملی واشنگٹن اب سرکاری طور پر چین کو ایک "قریبی حریف" (Near-Peer) تسلیم کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، بیجنگ اب تک کا وہ سب سے طاقتور مدمقابل ہے جس کا امریکہ کو اپنی تاریخ میں سامنا کرنا پڑا ہے۔ دوسری جانب، چین میں ٹرمپ کو "چوان جیانگو" (Trump the Nation Builder) کے نام سے پکارا جاتا ہے، کیونکہ بہت سے چینیوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی 'امریکہ فرسٹ' پالیسیوں نے عالمی سطح پر امریکہ کو کمزور کر کے چین کے ابھرنے کی راہ ہموار کی ہے۔

ٹیکنالوجی کی جنگ: روبوٹس اور الیکٹرک گاڑیاں مذاکرات کے ایجنڈے میں ٹیکنالوجی کی برتری سب سے اہم نکتہ ہوگی۔ چین اس وقت دنیا میں صنعتی روبوٹس کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے اور صرف اس سال روبوٹکس میں 400 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتا ہے۔ تاہم، ان روبوٹس کے 'دماغ' یعنی جدید ترین اے آئی چپس کے لیے چین کو اب بھی امریکی کمپنی 'انویڈیا' (Nvidia) کی ضرورت ہے، جو کہ اس ملاقات میں ایک مشکل مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اسی طرح، ایران میں جاری جنگ کی وجہ سے پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے چین کی الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کی صنعت کو مزید فروغ دیا ہے۔ چونگ چنگ اب گاڑیوں کی تیاری کا عالمی مرکز بن چکا ہے، جو امریکہ پر انحصار کم کرنے کی چینی کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ایران جنگ اور سفارتی چیلنجز مشرقِ وسطیٰ کا بحران بھی اس ملاقات پر اثر انداز ہوگا۔ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے بیجنگ سے مدد کے طلب گار ہو سکتے ہیں، جو کہ عالمی سطح پر چین کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کی علامت ہے۔ بیجنگ کے لیے اس دورے کی کامیابی اس پیغام میں ہے کہ چین تجارت کے لیے کھلا ہے، جبکہ امریکہ کے لیے کامیابی یہ ہوگی کہ وہ چین کو مزید امریکی مصنوعات خریدنے پر آمادہ کر سکے۔

اگرچہ چین کو اس وقت بھاری قرضوں، گرتی ہوئی پراپرٹی مارکیٹ اور سخت ریاستی کنٹرول جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن بیجنگ یہ ثابت کرنے کے لیے تیار ہے کہ وہ اب کسی کے زیرِ اثر نہیں بلکہ ایک برابر کی عالمی طاقت ہے۔

تحریر: ایڈیٹر ڈیلی حلیف

Comments