پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی خیبر پختونخوا کی قیادت میں اندرونی اختلافات اور دھڑے بندی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، موجودہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے درمیان ایک اہم اجلاس کے دوران شدید تلخ کلامی اور سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ہے، جس کے بعد صوبائی سیاست اور پارٹی صفوں میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔
اجلاس کے دوران تکرار اور الزامات کی بوچھاڑ
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پی ٹی آئی کے اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس کے دوران پیش آیا جہاں پارٹی کے تنظیمی امور، صوبائی حکومت کی کارکردگی اور انتظامی فیصلوں پر بحث جاری تھی۔ گفتگو کے دوران سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے صوبائی حکومت کی بعض پالیسیوں، فنڈز کے معاملات اور بیوروکریسی کے رویے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ اس دوران بات اتنی بڑھ گئی کہ موجودہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور کے درمیان سخت تکرار شروع ہو گئی اور دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے مؤقف پر شدید تنقید کی۔
اجلاس میں موجود پارٹی کے دیگر سینئر رہنماؤں نے فوری مداخلت کر کے بیچ بچاؤ کرانے اور معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی، تاہم اس واقعے نے پارٹی کے اندر موجود گہرے تنظیمی اختلافات کو طشت از بام کر دیا ہے۔
صوبائی قیادت میں اختلافات کی اصل وجوہات
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق، خیبر پختونخوا میں پارٹی رہنماؤں کے درمیان اختلافات گزشتہ کچھ عرصے سے شدت اختیار کر رہے ہیں۔ کئی سینیئر ارکان اور سابقہ انتظامیہ کے لوگ موجودہ حکومت کے فیصلے کرنے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
- انتظامی امور پر اختلافات: سابق وزیر اعلیٰ کے حامی گروپ کا مؤقف ہے کہ صوبے کے اہم انتظامی فیصلوں اور بیوروکریسی کے تقرر و تبادلوں میں پرانے اور مخلص رہنماؤں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
- حکومت اور تنظیم میں دھڑے بندی: صوبائی قیادت میں اس وقت دو واضح دھڑے بنتے نظر آ رہے ہیں، جن میں سے ایک گروپ موجودہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی پالیسیوں کا حامی ہے جبکہ دوسرا گروپ سابقہ طرزِ حکومت کو برقرار رکھنے پر اصرار کر رہا ہے۔
- مرکزی قیادت کے لیے چیلنج: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی قید کے دوران صوبے میں حکومت کو مضبوط رکھنا اور تمام دھڑوں کو متحد لے کر چلنا موجودہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، اور اس تازہ ترین واقعے کے بعد اپوزیشن جماعتوں کو بھی صوبائی حکومت پر تنقید کا بھرپور موقع مل گیا ہے۔
تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے دونوں رہنماؤں کو دوریاں ختم کرنے اور پارٹی ڈسپلن کی پابندی کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔

Comments
Post a Comment