امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے اپنے نمائندوں کو ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے کے لیے جلد بازی نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ امریکی انتظامیہ نے ایک دن قبل پیدا ہونے والی ان امیدوں کو کم کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ تین ماہ سے جاری اس جنگ کا فوری خاتمہ ممکن ہے۔ صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'ٹروتھ سوشل' پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی بحری جہازوں پر امریکی ناکہ بندی اس وقت تک پوری قوت کے ساتھ برقرار رہے گی جب تک ایک باقاعدہ معاہدہ طے نہیں پا جاتا اور اس پر دستخط نہیں ہو جاتے۔
مذاکرات کے بنیادی نکات اور پیچیدگیاں
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ دونوں فریقین کو پورا وقت لینا چاہیے تاکہ ایک درست اور پائیدار معاہدہ سامنے آ سکے۔ دوسری جانب، ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ تسنیم نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ امریکہ تہران کے منجمد فنڈز کی رہائی سمیت معاہدے کے کئی اہم حصوں میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ اس تضاد سے ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ واشنگٹن اور تہران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر بڑے پیمانے پر اتفاق کر لیا ہے، جہاں سے دنیا کی کل تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اتوار کو کسی معاہدے پر دستخط نہیں ہونے تھے کیونکہ ایرانی نظام اتنی تیزی سے فیصلے نہیں کرتا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران نے اصولی طور پر امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بدلے آبنائے ہرمز کھولنے اور اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو تلف کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی اس فریم ورک کی توثیق کر دی ہے، جس کے تحت مذاکرات کاروں کو حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دن کا وقت ملے گا۔
عالمی منڈیوں پر اثرات اور پاکستان کو ایل این جی کی ترسیل
اس ممکنہ معاہدے کی خبروں کے عام ہوتے ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 4 فیصد سے زائد کمی کے بعد 98.83 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے، جو مئی کے آغاز کے بعد پہلی بار 100 ڈالر سے نیچے گری ہے۔ بحری نقل و حمل کے اعداد و شمار کے مطابق، جنگ کے باعث گزشتہ تین ماہ سے معطل رہنے والی سپلائی میں جزوی بہتری آئی ہے اور قطر سے مائع قدرتی گیس (LNG) لے کر نکلنے والا بحری جہاز 'فوائریٹ' آبنائے ہرمز کو عبور کر رہا ہے، جو منگل کے روز پاکستان پہنچ کر اپنی گیس ان لوڈ کرے گا۔ اس کے علاوہ چین اور جنوبی کوریا کے لیے بھی خام تیل کے جہاز روانہ ہوئے ہیں۔
ٹرمپ کو اندرونی تنقید کا سامنا
اس معاہدے کے ممکنہ خدوخال سامنے آنے پر صدر ٹرمپ کو امریکہ کے اندر سخت گیر قدامت پسندوں اور ڈیموکریٹک اراکینِ پارلیمنٹ کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ سابق وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو اور دیگر ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ 2015 کے اوباما دور کے اسی ایرانی جوہری معاہدے کی مانند ہے جسے ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں مسترد کیا تھا۔ سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن کرس وان ہولن نے اسے ایک بڑی سفارتی غلطی قرار دیا۔ تاہم، ٹرمپ نے ناقدین کو سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ "اگر میں ایران کے ساتھ کوئی ڈیل کروں گا تو وہ بہترین اور مناسب ہوگی، اس لیے ان ناکام لوگوں کی باتوں پر کان نہ دھریں جو اس معاملے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔"
اگرچہ موجودہ جنگ بندی سے مارکیٹوں کو عارضی ریلیف ملا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے مکمل خاتمے کی صورت میں بھی آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی کو معمول پر آنے میں 2027 تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment