خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے گلگت بلتستان کے چیف جج (چیف جسٹس) کو ایک باقاعدہ خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے وہاں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات کے شفاف انعقاد کے لیے فوری عدالتی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے دوران سیاسی ماحول کو دانستہ طور پر خراب کیا جا رہا ہے، جو کہ انتہائی تشویشناک امر ہے۔
سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنے کے الزامات
وزیرِ اعلیٰ کے پی نے اپنے خط میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ گلگت بلتستان میں سیاسی کارکنوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا جا رہا ہے اور انہیں ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے نام پر پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کو زبردستی علاقے سے بے دخل کیا گیا ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ ایسے ہتھکنڈے شہریوں کے بنیادی جمہوری حقوق پر حملہ ہیں اور ان سے انتخابی عمل کی ساکھ بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
خط میں چیف جسٹس سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ انتظامیہ کی جانب سے اختیارات کے اس مبینہ ناجائز استعمال کا نوٹس لیں اور خطے میں تمام سیاسی جماعتوں کے لیے یکساں میدان (Level Playing Field) فراہم کرنے کو یقینی بنائیں تاکہ انتخابات کی شفافیت پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔
انتخابی شیڈول اور سیاسی گہما گہمی
یہ اہم سفارتی و قانونی قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب الیکشن کمیشن نے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے لیے نیا شیڈول جاری کیا ہے، جس کے بعد خطے میں سیاسی گہما گہمی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ایک طرف مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور دیگر جماعتیں وہاں ترقیاتی منصوبوں کے وعدوں کے ساتھ انتخابی مہم چلا رہی ہیں، تو دوسری طرف پی ٹی آئی نے موجودہ مقامی انتظامیہ پر جان بوجھ کر ان کا راستہ روکنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے گلگت بلتستان کے اعلیٰ ترین جج کو لکھا گیا یہ خط آنے والے دنوں میں انتخابی سیاست اور وفاق و صوبوں کے درمیان قانونی جنگ کو مزید تیز کر سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment