ایران کا امن منصوبہ, جنگی نقصان کا ازالہ اور امریکی فوج کے انخلا کا مطالبہ

ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری شدید کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے ایک نیا امن منصوبہ واشنگٹن بھیج دیا ہے، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر کل ہونے والا طے شدہ حملہ عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔ ایران کے اس نئے امن منصوبے میں تمام محاذوں پر جنگ بندی، امریکی افواج کی واپسی اور جنگی نقصانات کے ازالے جیسے سخت مطالبات شامل ہیں۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ارنا' (IRNA) کے مطابق، تہران کی جانب سے پاکستان کے ذریعے امریکہ کو بھیجی گئی تجاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ امن کے لیے ضروری ہے کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بند کی جائے، امریکی بحری محاصرہ ختم ہو اور ایران کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں۔ اس کے علاوہ ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے باعث ہونے والی تباہی کا مالی معاوضہ دیا جائے اور ایرانی سرحدوں کے قریب سے امریکی افواج کا انخلا یقینی بنایا جائے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ جوہری افزودگی (Nuclear Enrichment) کا حق ایران کا بنیادی اور ناقابلِ سودا حق ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پارلیمانی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے واشنگٹن کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ "امریکیوں کو یا تو سفارت کاری اور ہماری شرائط کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہوگا یا پھر ہمارے میزائلوں کی طاقت کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔" دوسری جانب ایرانی عسکری کمانڈ نے بھی الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی افواج کسی بھی جارحیت کی صورت میں "ٹراگر دبانے" کے لیے بالکل تیار ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ایران کی تجاویز موصول ہونے کے بعد فوج کو کل ہونے والے حملے روکنے کی ہدایت کی ہے، تاہم انہوں نے فوج کو الرٹ رہنے کا حکم بھی دیا ہے تاکہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں فوری طور پر بڑا حملہ کیا جا سکے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر بمباری کے بغیر ایران کو جوہری ہتھیاروں سے دور رکھنے کا کوئی معاہدہ ہو جاتا ہے تو وہ بہت خوش ہوں گے اور اس بات کا قوی امکان ہے۔

رپورٹس کے مطابق واشنگٹن کے سخت لہجے میں کچھ نرمی دیکھی گئی ہے اور امریکی انتظامیہ ایران کے منجمد اثاثوں کا چوتھائی حصہ (اربوں ڈالر) بحال کرنے اور عالمی ایجنسی کی نگرانی میں پرامن جوہری سرگرمیوں کی اجازت دینے پر غور کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی چھ ہفتوں کی خوفناک جنگ کے بعد اس وقت دونوں ممالک کے درمیان ایک نازک جنگ بندی قائم ہے، اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بندش کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو رہی ہے جس کو کھلوانے کے لیے ٹرمپ پر شدید عالمی دباؤ ہے۔

اقوامِ متحدہ نے بھی آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ پر جہاز رانی کی آزادی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ دنیا بھر کی نظریں اب اس بات پر لگی ہیں کہ آیا یہ امن منصوبہ جنگ کا مستقل خاتمہ بنے گا یا خطہ کسی بڑی تباہی کی طرف بڑھے گا۔


⬇️ Click to Read this Article in English

Iran Proposes Peace Deal Involving War Reparations and US Withdrawal; Trump Pauses Strike


Tehran’s latest peace proposal to the United States involves ending hostilities on all fronts, including Lebanon, the complete withdrawal of US forces from areas close to Iran, and financial reparations for destruction caused by the US-Israeli conflict, state news agency IRNA reported on Tuesday.

Iran's Stand on Peace Terms and Nuclear Rights

According to the official reports, the proposal emphasizes ending the naval blockade, releasing Iran’s frozen property and assets, and halting all unilateral sanctions. Iranian Foreign Ministry spokesperson Esmaeil Baghaei stressed that Iran's right to peaceful nuclear enrichment remains entirely "non-negotiable," adding that criticism from outside forces carries no weight. Meanwhile, parliamentary officials warned that the US must either surrender to diplomacy or the power of Iranian missiles.

Trump Halts Planned Military Attack

Following the delivery of Tehran's proposal—which was conveyed through Pakistan—US President Donald Trump announced that he has paused a scheduled military strike against Iran. Trump noted that there is now a "very good chance" of reaching a successful deal to limit Iran's nuclear program without resorting to devastating warfare. However, he maintained that the US military remains prepared to launch a large-scale assault at a moment's notice if negotiations fall through.

Strait of Hormuz and Global Stance

A fragile ceasefire has been in place after six weeks of intense war that followed US-Israeli airstrikes on Iran. Washington is facing intense pressure to finalize an accord to safely reopen the Strait of Hormuz, a critical global oil supply route that Iran has effectively blockaded. Responding to the crisis, UN spokesperson Farhan Haq stated that the international body wants to ensure there is no constraint to the freedom of navigation on the high seas and through the strategic waterway.

While Washington has reportedly shown signs of softening by considering the partial release of billions of dollars in frozen Iranian assets, the situation remains highly volatile as Iranian armed forces declare they are "ready to pull the trigger" against any renewed Western aggression.

Comments