پنجاب کے شہر سمبڑیال میں ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں سوشل میڈیا پر اپنی شادی کی وجہ سے وائرل ہونے والے معروف ٹک ٹاکر حکیم بابر کو مبینہ طور پر شربت میں زہریلی چیز پلا دی گئی ہے۔ زہریلا شربت پینے سے ان کی طبیعت شدید خراب ہو گئی، جس کے بعد انہیں فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹر (THQ) اسپتال سمبڑیال منتقل کیا گیا۔ پولیس نے متاثرہ ٹک ٹاکر کی درخواست پر مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔
ٹک ٹاک شہرت اور حسد کا شاخسانہ
ایف آئی آر (FIR) کے مطابق، راولپنڈی کے رہائشی حکیم بابر عیدالاضحیٰ کے سلسلے میں تھانہ بیگووالہ کے علاقے موضع کوٹلی کھوکھراں میں ایک دعوت پر آئے ہوئے تھے [5، 6]۔ وہاں موجود دو مقامی افراد، صفدر اور سرور چوڑ (یا علی)، نے انہیں شربت پلایا جس کے فوراً بعد ان کی حالت بگڑ گئی ۔ حکیم بابر نے پولیس کو دیے گئے بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ دونوں ملزمان ٹک ٹاک پر ان کی بڑھتی ہوئی شہرت اور مقبولیت سے شدید حسد کرتے تھے، اور اسی حسد کی وجہ سے انہوں نے جان لیوا اقدام اٹھایا۔
واضح رہے کہ حکیم بابر چند ماہ قبل سوشل میڈیا پر اس وقت شدید وائرل ہوئے تھے جب انہوں نے 60 سال کی عمر میں ایک جوان لڑکی سے شادی کی تھی، جس پر انٹرنیٹ پر کافی ہنگامہ اور بحث چلی تھی ۔
پولیس کی کارروائی اور صحت کی تازہ ترین صورتحال
اسپتال انتظامیہ اور پولیس حکام کے مطابق، خوش قسمتی سے حکیم بابر کو بروقت طبی امداد ملنے کے باعث ان کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ پولیس نے دونوں نامزد ملزمان کے خلاف بیگووالہ تھانے میں باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد ہی انہیں قانون کی گرفت میں لے لیا جائے گا۔
سوشل میڈیا پر حسد اور باہمی دشمنی کے بڑھتے ہوئے رجحانات اب انٹرنیٹ سے نکل کر حقیقی زندگی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔

Comments
Post a Comment