شمالی کوریا کی "شہزادی" کا بدلا ہوا انداز: کیا کم جو اے مستقبل کی حکمران بننے والی ہیں؟


نومبر 2022 میں جب پہلی بار شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا پر کم جونگ ان کے ساتھ ایک چھوٹی سی بچی کی تصویر منظرِ عام پر آئی، تو پوری دنیا میں تجسس کی لہر دوڑ گئی۔ سفید جیکٹ اور سیاہ پتلون میں ملبوس نو سالہ کم جو اے اپنے والد کا ہاتھ تھامے ایک عظیم الشان بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے سامنے کھڑی تھیں۔ اس وقت سے لے کر اب تک کم جو اے کے لباس، بالوں کے اسٹائل اور مجموعی انداز میں ایک حیرت انگیز تبدیلی آئی ہے، جو محض فیشن نہیں بلکہ سیاست کی عکاسی کرتی ہے۔

لباس کے ذریعے جانشینی کا پیغام

جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس ایجنسی اور دیگر عالمی مبصرین کا ماننا ہے کہ کم جو اے کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور ان کے لباس کا انتخاب اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہیں ملک کی اگلی سربراہ کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق شمالی کوریا کا "پروپیگنڈا ڈیپارٹمنٹ" جو اے کے ملبوسات کو بڑی احتیاط سے ترتیب دیتا ہے۔ کبھی وہ اپنی والدہ ری سول جو کی طرح باقاعدہ سوٹ اور اسکرٹ میں نظر آتی ہیں تاکہ ان کی کم عمری کو چھپا کر ایک پختہ اور سنجیدہ امیج پیش کیا جا سکے، اور کبھی وہ اپنے والد کی طرح سیاہ چمڑے کی جیکٹ (لیڈر جیکٹ) میں دکھائی دیتی ہیں جو فوجی اڈوں کے دوروں کے لیے موزوں اور طاقتور تاثر پیدا کرتی ہے۔

عکس سازی کی حکمتِ عملی

شمالی کوریا کی قیادت میں "تصویری مشابہت" کا طریقہ کار بہت پرانا ہے۔ خود کم جونگ ان نے اپنے اقتدار کے ابتدائی برسوں میں اپنے دادا کم ال سنگ جیسا لباس پہننا شروع کیا تھا تاکہ عوام میں اپنی قبولیت اور جائز مقام پیدا کر سکیں۔ اب وہی حکمتِ عملی کم جو اے کے لیے اپنائی جا رہی ہے۔ جب وہ اپنے والد جیسی لمبی کوٹ یا چمڑے کی جیکٹ پہنتی ہیں، تو یہ عوام کے ذہنوں میں یہ تاثر پختہ کرتا ہے کہ وہ اپنے والد کا عکس ہیں اور اقتدار کی جائز وارث ہیں۔


عام عوام کے لیے پابندی، خاندان کے لیے چھوٹ

کم جو اے کا بدلتا ہوا فیشن شمالی کوریا کے عام شہریوں کی زندگی سے بالکل مختلف ہے۔ ایک طرف ریاست نے "رجعت پسند نظریہ اور ثقافت" کے خلاف قانون بنا رکھا ہے جس کے تحت مغربی فیشن، جینز اور مخصوص بالوں کے اسٹائل پر سخت پابندی ہے، تو دوسری طرف کم جو اے کو قیمتی فرانسیسی برانڈز کے ملبوسات پہنے دیکھا گیا ہے۔ ایک موقع پر وہ چودہ سو پاؤنڈ سے زائد مالیت کی مہنگی جیکٹ میں نظر آئیں، جبکہ ایک اور تقریب میں انہوں نے ایسی قمیض پہنی جس سے ان کے بازو نظر آ رہے تھے—وہ انداز جو عام شہریوں کے لیے "غیر اشتراکی اور سماج دشمن" قرار دے کر ممنوع کیا جا چکا ہے۔

فیشن آئیکن اور عوامی ردِعمل

دلچسپ بات یہ ہے کہ سخت قوانین کے باوجود شمالی کوریا کے مراعات یافتہ طبقے میں کم خاندان کے فیشن کو اپنانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین کے سرحدی شہروں اور پیانگ یانگ کے امیر طبقے میں قیمتی خوشبویات، سن گلاسز اور چمڑے کے کوٹ مقبول ہو رہے ہیں۔ یہاں تک کہ کچھ اسکولوں میں بچوں نے کم جو اے کے اسٹائل کی نقل کرنا شروع کر دی ہے۔ شمالی کوریا، جہاں بیرونی دنیا کے فیشن تک رسائی ناممکن ہے، وہاں اب کم جونگ ان کے بعد ان کی بیٹی ایک غیر متوقع "فیشن آئیکن" بن کر ابھری ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کم جو اے کا یہ شاہانہ اور منفرد انداز دراصل ایک "امتیازی حکمتِ عملی" ہے، جس کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ ان کا سماجی مقام عام شہریوں سے کہیں بلند اور برتر ہے۔ اگرچہ ان کی عمر ابھی صرف تیرہ سال کے قریب ہے، لیکن ان کا ہر نیا لباس یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کی اگلی "سپریم لیڈر" بننے کی راہ پر گامزن ہیں۔

تحریر: ایڈیٹر ڈیلی حلیف 

Comments