پاکستان کی معروف اداکارہ حنا الطاف نے سوشل میڈیا پر اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک انتہائی افسوسناک اور ناخوشگوار واقعے کا انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں شوٹنگ سیٹ پر کام کے دوران انہیں ایک ایسے شخص کا سامنا کرنا پڑا جو بظاہر پیشہ ور نظر آتا تھا لیکن اس کا رویہ ایک 'شکاری' جیسا تھا، جس کی وجہ سے وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگیں۔
حنا الطاف کا جرات مندانہ اقدام
آج کل ایکسپریس انٹرٹینمنٹ کے ڈرامے 'اے دشمنِ جاں' میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی حنا الطاف نے پاکستانی معاشرے میں خواتین کو درپیش چیلنجز پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس غیر آرام دہ صورتحال میں پھنسنے کے بعد انہوں نے اپنی چھٹی حس (Instincts) پر بھروسہ کیا اور فوری طور پر خود کو اس ماحول سے الگ کر لیا۔ بعد ازاں انہوں نے اس پورے معاملے کی رپورٹ متعلقہ پروڈکشن ہاؤس کو بھی درج کروائی۔
حنا الطاف نے اس بات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا کہ پاکستان میں خواتین کو تحفظ فراہم کرنے والے سخت قوانین اور محفوظ ماحول دینے کے بجائے خود خواتین کو ہی بقا کے لیے ہر وقت 'ہوشیار' رہنا پڑتا ہے، جو کہ ذہنی طور پر انتہائی تھکا دینے والا عمل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے معاملات پر خاموشی اختیار کرنا یا انہیں نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں رہا، اور ایسے افراد کا کڑا احتساب ہونا چاہیے۔
خواتین کے لیے اہم پیغام
اداکارہ نے تمام خواتین پر زور دیا کہ وہ اپنے تحفظ پر کبھی سمجھوتہ نہ کریں اور اپنے اندرونی احساسات پر بھروسہ کرتے ہوئے آواز اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا اور کندھے سے کندھا ملا کر اس ناانصافی کے خلاف کھڑا ہونا پڑے گا۔ یاد رہے کہ حنا الطاف ماضی میں 'اڈاری'، 'دلِ جانم' اور 'دلِ گمشدہ' جیسے مقبول ڈراموں میں یادگار کردار ادا کر چکی ہیں۔
حنا الطاف کا یہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے اور شوبز انڈسٹری سمیت مداحوں کی جانب سے ان کے اس جرات مندانہ موقف کی بھرپور حمایت کی جا رہی ہے۔

Comments
Post a Comment