ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر آبنائے ہرمز میں حملے کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'ایکس' پر اپنے بیان میں امریکہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جب بھی میز پر کوئی سفارتی حل موجود ہوتا ہے، واشنگٹن 'غیر ذمہ دارانہ فوجی مہم جوئی' کا راستہ انتخاب کر لیتا ہے۔
دباؤ کی سیاست یا نئی دلدل؟ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم کبھی بھی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گی۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا یہ محض دباؤ ڈالنے کا خام حربہ ہے یا پھر کسی 'سپائلر' کی جانب سے صدر کو ایک بار پھر نئی دلدل میں دھکیلنے کی کوشش ہے؟ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فروری میں شروع کی گئی جنگ کو ختم کرنے کے لیے جنگ بندی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
آبنائے ہرمز میں حملوں کا تبادلہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے الزام لگایا ہے کہ ایران نے ان کے تین بحری جہازوں پر میزائلوں، ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں سے "بلا اشتعال حملہ" کیا ہے۔ اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے متعدد ایرانی کشتیوں اور ڈرونز کو تباہ کر کے حملہ آوروں کو "بڑا نقصان" پہنچایا ہے۔ دوسری جانب، ایران کی اعلیٰ فوجی کمان نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ امریکہ نے ایرانی تیل بردار جہاز اور دیگر کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے اور ساحلی علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔
عالمی معیشت پر اثرات آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی 20 فیصد توانائی (تیل اور ایل این جی) گزرتی ہے، وہاں جاری اس تنازع نے عالمی منڈی میں قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ فروری سے اب تک علاقے میں تقریباً 2,000 بحری جہاز پھنسے ہوئے ہیں، جنہیں نکالنے کے لیے امریکی فوجی آپریشن تعطل کا شکار ہے۔ امریکہ نے تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی بھی کر رکھی ہے۔
تازہ ترین صورتحال اور جانی نقصان جمعہ کے روز بھی علاقے میں نئے حملوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق میناب کے پانیوں کے قریب ایک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا جس سے اس میں آگ لگ گئی، واقعے میں 10 ملاح زخمی ہوئے ہیں جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔ ادھر متحدہ عرب امارات نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں اور تین ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، تاہم ملبہ گرنے سے تین افراد زخمی ہوئے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ایران جمعہ تک پیش کی گئی تجاویز پر سنجیدہ ردِعمل دے گا، تاہم صدر ٹرمپ نے وارننگ دی ہے کہ اگر معاہدہ جلد طے نہ پایا تو مستقبل میں مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
تحریر: ایڈیٹر ڈیلی حلیف

Comments
Post a Comment