افریقی ملک مالی کے دارالحکومت باماکو کے قریب القاعدہ سے وابستہ شدت پسند گروپ نے ناکہ بندی سخت کرتے ہوئے درجنوں گاڑیوں، ایندھن کے ٹینکرز اور ٹرکوں کو آگ لگا دی ہے۔ برطانوی میڈیا (BBC) نے سیٹلائٹ تصاویر اور ویڈیوز کی مدد سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ واقعہ دارالحکومت سے محض 45 کلومیٹر دور مغرب میں پیش آیا، جہاں سڑک پر گاڑیوں کے جلے ہوئے ڈھانچے دیکھے جا سکتے ہیں۔
باماکو کا معاشی گھیراؤ اور ایندھن کا بحران
القاعدہ کے قریبی نیٹ ورک 'جماعت نصرت الاسلام والمسلمین' (JNIM) نے دارالحکومت کے لیے ایندھن کی سپلائی لائنز کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ مالی چاروں طرف سے خشکی سے گھرا ملک ہے جو اپنی توانائی اور ایندھن کی ضروریات کے لیے پڑوسی ممالک سینیگال اور آئیوری کوسٹ پر انحصار کرتا ہے۔ شدت پسندوں نے پچھلے سال سے اب تک 100 سے زائد آئل ٹینکرز کو جلایا ہے اور کئی ڈرائیورز کو اغوا کر چکے ہیں، جس کا مقصد مالی کی معیشت کو مفلوج کرنا اور فوجی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔
رپورٹس کے مطابق تازہ ترین حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی کیونکہ عینی شاہدین کے مطابق مسلح افراد نے گاڑیوں کو آگ لگانے سے پہلے ان میں سوار افراد کو نیچے اتار دیا تھا۔ ناسا (NASA) کے گلوبل فائر سسٹم نے بھی اس مخصوص ہائی وے پر آگ کے شدید اثرات ریکارڈ کیے ہیں۔
فوجی جنتا اور روسی فورسز کی ناکامی
مالی کے موجودہ فوجی سربراہ جنرل عاصمی گوئتا نے 2020 میں ملک کا کنٹرول سنبھالا تھا اور عوام سے امن و امان بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم، روسی نجی فوج (مرسنریز) کی مدد کے باوجود فوجی جنتا ملک کے شمالی اور مشرقی حصوں میں امن قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پچھلے ماہ بھی شدت پسندوں کی جانب سے دارالحکومت پر بڑا حملہ کیا گیا تھا جس میں مبینہ طور پر وزیرِ دفاع سادیو کامارا ہلاک ہو گئے تھے۔ حکومت نے ایندھن کے اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی فوجی ٹاسک فورس بھی بنائی ہے، لیکن وہ کانوائے کو تحفظ دینے میں تاحال ناکام نظر آ رہی ہے۔
شدت پسندوں کی اس سخت ناکہ بندی کے بعد دارالحکومت باماکو میں شدید معاشی بحران اور ایندھن کی قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

Comments
Post a Comment