چارسدہ میں معروف عالم دین مولانا محمد ادریس ترنگزئی ٹارگٹ کلنگ میں شہید، جے یو آئی کا ملک گیر احتجاج کا اعلان
خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں منگل کی صبح ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں نامعلوم دہشت گردوں نے معروف مذہبی عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئی کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر کے انہیں شہید کر دیا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ صبح تقریباً سوا آٹھ بجے تھانہ اتمان خیل کی حدود میں پیش آیا۔ دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار حملہ آوروں نے مولانا کی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال جاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گئے، جبکہ ان کی حفاظت پر مامور دو پولیس کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔
انسپکٹر جنرل پولیس زلفیقار حمید نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے محکمہ انسدادِ دہشت گردی اور ضلعی پولیس پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ تفتیشی حکام نے سیف سٹی کیمروں کی مدد سے حملہ آوروں کی تصاویر حاصل کر لی ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ابتدائی شواہد کے مطابق یہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئی ٹارگٹ کلنگ ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے مولانا محمد ادریس کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج و ملال کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے سوگوار خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے زخمی پولیس اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ صدر زرداری کا کہنا تھا کہ بزدلانہ دہشت گردی کی ایسی کارروائیاں قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں اور ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کا عزم غیر متزلزل ہے۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اس واقعے کے خلاف بدھ اور جمعہ کے روز ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی ترجمان اسلم غوری کے مطابق صوبائی ہیڈ کوارٹرز اور ضلعی سطح پر پرامن مظاہرے کیے جائیں گے۔ انہوں نے حکومت کو امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ علماء کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ ایک سنگین سوالیہ نشان ہے اور ریاست کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ واضح رہے کہ چارسدہ اور قریبی اضلاع میں حالیہ مہینوں میں مذہبی و سیاسی شخصیات پر حملوں کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

Comments
Post a Comment