خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لیے قطر کے وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی اور سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ اس گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال بالخصوص امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ کے بعد پیدا ہونے والے بحران پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
Prime Minister and Minister of Foreign Affairs @MBA_AlThani_ Holds Phone Call with Saudi Foreign Minister
— Ministry of Foreign Affairs - Qatar (@MofaQatar_EN) May 17, 2026
Doha | May 17, 2026
HE Prime Minister and Minister of Foreign Affairs Sheikh Mohammed bin Abdulrahman bin Jassim Al-Thani held a telephone conversation with HH Minister of… pic.twitter.com/kxk7j3KAQd
امن اور استحکام کے لیے سفارتی کوششیں
سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اتوار کے ایک بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری تناؤ کو کم کرنے اور سلامتی کو فروغ دینے کی کوششوں کا جائزہ لیا۔ گفتگو کے دوران قطری وزیرِ خارجہ شیخ محمد نے اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ فریقین کو جاری ثالثی کی کوششوں کا مثبت جواب دینا چاہیے، کیونکہ یہی ایک راستہ ہے جو بحران کی بنیادی وجوہات کو پرامن طریقے اور ڈائیلاگ کے ذریعے حل کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے بھی ہفتے کی دیر رات اس رابطے کی تصدیق کی اور بتایا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور خطے کی سلامتی کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ قطری قیادت کا ماننا ہے کہ صرف ایک پائیدار اور جامع معاہدہ ہی خطے کو دوبارہ کسی بڑی جنگ اور کشیدگی سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔
🇸🇦📞🇶🇦 | Foreign Minister HH Prince @FaisalbinFarhan received a phone call from Qatar’s Prime Minister and Foreign Minister H.E. Sheikh Mohammed bin Abdulrahman Al Thani. pic.twitter.com/kchoeJIkJl
— Foreign Ministry 🇸🇦 (@KSAmofaEN) May 16, 2026
مشرقِ وسطیٰ بحران کا پس منظر
یاد رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال اس وقت شدید خراب ہوئی جب فروری میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فضائی کارروائی کی۔ اس کے جواب میں تہران نے نہ صرف اسرائیل اور خلیج میں امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنایا بلکہ عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم بحری راستے 'تنگہ ہرمز' (Strait of Hormuz) کو بھی بند کر دیا۔ اگرچہ اپریل میں پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں عارضی جنگ بندی نافذ ہوئی تھی، لیکن اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی مستقل معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کا اعلان کیا تھا، تاہم خطے میں توازن اب بھی انتہائی نازک ہے۔
قطر اور سعودی عرب کا یہ حالیہ رابطہ ظاہر کرتا ہے کہ خلیجی ممالک خطے کو کسی بڑے معاشی اور دفاعی بحران سے بچانے کے لیے سفارتی محاذ پر متحرک ہو چکے ہیں۔

Comments
Post a Comment